معجم صغير للطبراني
كتاب التوبة و الإستغفار— توبہ و استغفار کا بیان
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کثرت سے استغفار کرنے کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُسْلِمٍ أَبُو يَحْيَى الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ "قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَرَاكَ تُكْثِرُ أَنْ تَقُولَ : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ ؟ ، فَقَالَ : إِنِّي أُمِرْتُ بِأَمْرٍ ، فَقَرَأَ : إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَاصِمٍ ، إِلا حَفْصٌ ، تَفَرَّدَ بِهِ سَهْلٌسیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم وفات سے قبل بکثرت یہ دعا پڑھتے: «سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ”اے اللہ! تو پاک ہے اور ساتھ تیری تعریف کے میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کو اکثر یہ دعا پڑھتے ہوئے دیکھتی ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ایک حکم ہوا (جس کی وجہ سے میں یہ پڑھتا ہوں)۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پڑھا: ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَالْفَتْحُ﴾ ”جب اللہ کی مدد آ گئی اور فتح بھی پہنچ آئی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
البتہ اس حدیث کے پیش نظر کہ ’’رکوع میں اپنے رب کی تعظیم کرو اور بندہ سجدہ کی حالت میں اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے، اس لیے سجدہ میں دعا کیا کرو کہ سجدہ کی دعا مقبول ہونے کی زیادہ امید ہے۔
‘‘ بعض ائمہ نے سجدہ کی حالت میں دعا جائز قرار دی ہے اور رکوع میں دعا کو مکروہ کہا ہے۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ مذکورہ حدیث میں دعا کا ایک مخصوص ترین وقت حالت سجدہ کو بتایا گیا ہے۔
اس میں رکوع میں دعا کرنے کی کوئی ممانعت نہیں ہے بلکہ حدیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم ﷺ رکوع اور سجدہ دونوں حالتوں میں دعا کرتے تھے۔
امیر الحاج نے تمام دعائیں جماعت تک میں اس شرط پر جائز قرار دی ہیں کہ مقتدیوں پر اس سے کوئی گراں باری نہ ہو۔
(تفہیم البخاری)
(1)
رکوع میں دعا کرنے کے متعلق اختلاف ہے۔
امام مالک کہتے ہیں کہ رکوع میں دعا کرنا مکروہ ہے۔
ان کی دلیل یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’رکوع میں اپنے رب کی تعظیم کرو۔
بندہ سجدے کی حالت اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے، اس لیے سجدے میں دعا کیا کرو کیونکہ بحالت سجدہ دعائیں قبول ہونے کی زیادہ امید ہے۔
‘‘ (صحیح مسلم، الصلاة، حدیث: 1074(479)
امام بخارى ؒ کا مقصود مذکورہ موقف کی تردید کرنا ہے۔
پیش کردہ حدیث میں دعا کے لیے ایک مخصوص وقت کی تعیین کی گئی ہے، اس میں بحالت رکوع دعا کرنے کی کوئی ممانعت نہیں۔
امام بخاری نے حدیث سے ثابت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ رکوع اور سجدہ دونوں حالتوں میں دعا کرتے تھے۔
جیسا کہ سجدے میں اللہ کی تعظیم کی جا سکتی ہے اسی طرح رکوع میں دعا کرنے کی بھی کوئی ممانعت نہیں۔
(صحیح البخاري، الصلاة، حدیث: 817)
واللہ أعلم۔
(2)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ مذکورہ دعا پڑھنے میں قرآن مجید پر عمل کرتے تھے۔
(فتح الباري: 364/2)
سورۂ نصر میں ہے: ﴿فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ ۚ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا ﴿٣﴾) (النصر3: 110)
’’آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کیجئے اور اس سے مغفرت طلب کیجیے۔
بےشک وہ بہت زیادہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔
‘‘ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اس سورت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ نماز میں مذکورہ دعا پڑھتے تھے۔
(فتح الباري: 387/2)
«. . . عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي . . .»
”. . . عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدہ میں یہ پڑھتے تھے «سبحانك اللهم، ربنا وبحمدك، اللهم اغفر لي» ۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي: 4293]
صحیح بخاری کی حدیث نمبر: 4293 کا باب: «بَابُ مَنْزِلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ:»
امام بخاری رحمہ اللہ ترجمہ الباب میں فتح مکہ کے بعد کا ذکر فرما رہے ہیں، مگر تحت الباب جو امی عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت نقل فرمائی ہے اس میں فتح مکہ کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے، بلکہ رکوع اور سجود کی تسبیح کا ذکر ہے، لہٰذا بظاہر باب سے حدیث کی مناسبت دکھلائی نہیں دیتی، دراصل امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی عادت کے مطابق اسی حدیث کے دوسرے طرق کی طرف اشارہ فرمایا ہے، جس سے باب اور حدیث میں واضح مناسب ظاہر ہوتی ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: «ووجه دخوله هنا ما سيأتي فى التفسير بلفظ ”ما صلى النبى صلى الله عليه وسلم صلاة بعد أن أنزلت عليه (اذا جاء نصر الله والفتح) [النصر: 1] الا يقول فيها .» [فتح الباري لابن حجر: 18/8]
”ترجمہ الباب کے تحت اس حدیث کو شامل کرنے کی مناسبت یوں ہے کہ دوسرے طریق کتاب التفسیر میں یہ الفاظ موجود ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے، (رکوع اور سجدوں میں) جب یہ آیت (فتح مکہ کے روز) نازل ہوئی، «اذا جاء نصر الله والفتح .» “
لہٰذا مذکورہ حدیث کا تعلق فتح مکہ کے روز سے ہے لہٰذا مناسبت کا پہلو اسی مقام پر موجود ہے۔
علامہ عبدالحق الہاشمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «فيقال: كأن البخاري بيض له، فلم يتفق له وقوع ما يناسبه، ثم هذه الأحاديث الأربعة التى أوردها فى هذا الباب مناسبة لقصة الفتح كما لايخفي» [لب اللباب فى اللتراجم والأبواب 297/3]
”یعنی علامہ عبدالحق صاحب کے بیان کے مطابق تحت الباب جو احادیث امام بخاری رحمہ اللہ نے نقل فرمائی ہیں ان کی مناسبت فتح مکہ کے واقعہ کے ساتھ ہے جو کہ مخفی نہیں ہے، یعنی کہیں نہ کہیں فتح کا ذکر احادیث میں موجود ہے۔“
محمد زکریا کاندھلوی فرماتے ہیں: ”(بغیر ترجمۃ) «ذكر فيه الأحاديث المتفرقة التى فيها ذكر فتح مكة .» “ [الابواب والتراجم لصحيح البخاري 624/4]
”(باب بغیر ترجمہ کے) تحت الباب متفرق چار احادیث کا ذکر فرمایا ہے، جس سے باب میں مناسبت فتح مکہ کے بیان سے ہے۔“
حدیث سے نکلا کہ رکوع یا سجدے میں دعا کرنا منع نہیں ہے۔
اس حدیث کا تعلق باب سے یوں ہے کہ اس حدیث کے دوسرے طریق میں یوں مذکور ہے کہ جب آپ پر سورۃ اذا جاءنصر اللہ نازل ہوئی یعنی فتح مکہ کے بعد تو آپ ہر نماز میں رکوع اور سجدے میں یوں ہی فرمانے لگے۔
اس سورت میں اللہ نے یہ حکم دیا إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ (النصر: 3)
پس سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي اسی کی تعلیم ہے۔
آنحضرت ﷺ کا آخری عمل یہی تھا کہ آپ رکوع اور سجدے میں بکثرت اس کو پڑھا کرتے تھے۔
لہذا اور دعاؤں پر اس کو فوقیت حاصل ہے۔
ضمنی طور پر اس میں بھی فتح مکہ کا ذکر ہے اور باب میں یہی مطا بقت ہے۔
1۔
سورہ نصر میں ہے: ’’آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کریں اور بخشش طلب کریں۔
‘‘ رسول اللہ ﷺ اس حکم کی تعمیل کرتے ہوئے مذکورہ دعا پڑھتے تھے۔
2۔
اس سورت میں فتح سے مراد فتح مکہ ہے۔
اس سورت کے نازل ہونے کے بعد جب بھی آپ نماز پڑھتے تو یہ دعا ضر ور پڑھتے تھے۔
امام بخاری ؒ نے اسی مناسبت سے اس حدیث کو یہاں بیان کیاہے۔
(فتح الباري: 26/8۔
)
حدیث میں بھی اس کی صراحت ہے کہ فتح مکہ کے بعد آپ رکوع وسجود میں اسے ضرور پڑھتے تھے۔
(صحیح البخاري، التفسیر، حدیث: 4967۔
)
اس حکم کی روشنی میں آپ ﷺ سجدہ میں مذکورہ دعا پڑھا کرتے تھے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ یا اللہ میں تیری حمد کے ساتھ تیری پاکی بیان کرتا ہوں اے اللہ تو مجھ کو بخش دے۔
اس دعا میں تسبیح اور تحمید اور استغفار تینوں موجود ہیں اس لیے رکوع اور سجدہ میں اس کا پڑھنا افضل ہے علاوہ ازیں رکوع میں سُبحَانَ رَبیِّ العَظِیم اور سجدہ میں سُبحَانَ رَبیِّ الاَعلٰی مسنونہ دعائیں بھی آیات قرآنیہ ہی کی تعمیل ہیں جیسا کہ مختلف آیات میں حکم ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ سورہ اِذَا جَآئَ نَصرُ اللّٰہِ کے نزول کے بعد آپ ہمیشہ رکوع وسجود میں اس دعا کو پڑھتے رہے یعنی سُبحَانَك اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمدِکَ اَللّٰھُمَّ اغفِرلِی علامہ امام شوکانی ؒ اس کا مطلب یوں بیان فرماتے ہیں بتوفیقك لي وھدایتك وفضلك علی سبحنك لا بحولي وقوتي۔
یعنی یا اللہ میں محض تیری توفیق اور ہدایت اور فضل سے تیری پاکی بیان کرتا ہوں اپنی طرف سے اس کار عظیم کے لیے مجھ میں کوئی قوت نہیں ہے۔
بعض روایات میں رکوع وسجدہ میں یہ دعا پڑھنی بھی آنحضرت ﷺ سے ثابت ہے سُبُّوح قُدُّوس رَبُّ المَلَائِکَة وَالرُّوحِ (احمد مسلم وغیرہ)
یعنی میرا رکوع یا سجدہ اس ذات واحد کے لیے ہے جو جملہ نقائص اور شرکاء سے پاک ہے وہ مقدس ہے وہ فرشتوں کا اور جبرئیل کا بھی پروردگار ہے۔
(1)
صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بندہ اپنے رب کے بہت زیادہ قریب بحالت سجدہ ہوتا ہے، لہذا تم اس حالت میں بکثرت دعا کیا کرو۔
‘‘ (صحیح مسلم، الصلاة، حدیث: 1083 (482)
ایک روایت میں ہے کہ سجدے میں کوشش سے دعا کیا کرو کیونکہ یہ اس لائق ہے کہ تمہاری دعا قبول کر لی جائے۔
(صحیح مسلم، الصلاة، حدیث: 1074 (479)
ان روایات کی وجہ سے شاید کہا جا سکے کہ سجدے میں دعا ہی کرنی چاہیے۔
اس میں تسبیح وغیرہ نہ پڑھی جائے۔
امام بخاری ؒ نے تنبیہ فرمائی کہ سجدے میں تسبیح پڑھنا اور دعا کرنا دونوں ثابت ہیں۔
مذکورہ حدیث سے ثابت ہے کہ رکوع میں دعا اور سجدے میں تسبیح پڑھی جا سکتی ہے اور جس روایت میں ہے کہ رکوع میں اپنے رب کی تعظیم کرو اور سجدے میں کوشش سے دعا کرو۔
یہ روایت مذکورہ حدیث کے معارض نہیں۔
(فتح الباري: 388/2) (2)
رسول اللہ ﷺ سے دوران نماز میں متعدد مقامات میں دعائیں کرنا ثابت ہیں۔
ان میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں: ٭ تکبیر تحریمہ کے بعد قراءت سے پہلے ٭ رکوع کی حالت میں ٭ قومے کی حالت میں ٭ سجدے کی حالت میں ٭ دونوں سجدوں کے درمیان ٭ تشہد کے بعد سلام سے قبل۔
فرائض میں دوران جماعت چونکہ مقتدی حضرات کی رعایت کرتے ہوئے تخفیف کا حکم ہے، اس لیے فرائض میں اگر مقتدی حضرات پر گرانی نہ ہو تو بکثرت دعائیں کی جا سکتی ہیں۔
واللہ أعلم۔
(3)
سورۂ نصر میں رسول اللہ ﷺ کو استغفار کا حکم ہوا تھا، یہ اسی قرآنی حکم کی تعمیل تھی کہ آپ کثرت کے ساتھ رکوع اور سجدے میں اس دعا کو پڑھا کرتے تھے۔
یہ سورت یوم النحر کو حجۃ الوداع کے موقع پر منٰی میں نازل ہوئی۔
اس سورت کے نازل ہونے کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اکیاسی دن زندہ رہے۔
(فتح الباری)
1۔
قرآن کریم میں یہ حکم ہے: ’’آپ اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کریں اور اس سے بخشش طلب کریں، یقیناً وہ ہمیشہ سے بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔
‘‘ (النصر3/110)
اس آیت میں آپ کو ہدایت کی گئی ہے کہ اپنے پروردگار کے اتنے بڑے احسانات کے شکریے کے طور پر اب پہلے سے زیادہ اللہ کی تسبیح و تحمید کریں اور آپ کی زندگی میں دین کی سربلندی کے لیے کوئی لغزش ہوگئی ہو تو اس کے لیے استغفار کریں۔
2۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس حکم پر عمل کرتے ہوئے مذکورہ دعا کثرت سے پڑھا کرتے تھے۔
اور اس میں درحقیقت امت کو حکم دینا ہے کہ وہ ہر وقت اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رکھیں اور کسی وقت بھی اس کی یاد سے غافل نہ ہوں اور کبھی یہ نہ سمجھیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کا حق بندگی ادا کر دیا ہے انسان کے کام میں ہر صورت میں کمی اور کوتاہی رہ جاتی ہے۔
اس لیے اس کو بکثرت استغفار اور تسبیح وتحمید کرنا چاہیے اور فتح مکہ کے بعد لوگوں کا بکثرت مسلمان ہونا، یہی فتح ونصرت کی علامت تھی اور آپﷺ کی موت کے قرب کی طرف بھی اشارہ تھا اس لیے آپﷺ کو بکثرت تسبیح وتحمید اور استغفار کا حکم دیا گیا ہے، اور آپﷺ اس حکم کی تعمیل میں یہ کام کرنے لگے جو ایک طرح سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے فریضہ رسالت کی ادائیگی کی توفیق اور آپﷺ کے لائے ہوئے دین کی وسعت کی نعمت کا شکرانہ بھی تھا۔
اوراس سے مغفرت طلب کریں اس حکم کی تعمیل آپﷺ رکوع اور سجدے میں یہ کلمات کہہ کر کیا کرتے تھے، اور آپﷺ کی اقتدا اور پیروی میں ہمیں بھی یہ کلمات سجدہ اوررکوع میں کہنے چائیں۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدوں میں کثرت سے «سبحانك اللهم ربنا وبحمدك اللهم اغفر لي» کہتے تھے اور قرآن کی آیت «فسبح بحمد ربك واستغفره» (سورة النصر: ۳) کی عملی تفسیر کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 877]
➊ اس دعا کا پس منظر یہ ہے کہ جب سورہ «إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّـهِ» نازل ہوئی تو اس میں یہ ارشاد ہوا کہ «فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ ۚ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا» ”سو اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجئے اور اس سے استغفار کیجئے، بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ دعا کو رکوع اور سجدے میں اپنا معمول بنا لیا۔
➋ اس دعا میں تسبیح، تحمید اور دعا تینوں چیزیں جمع ہیں۔ اور سابقہ حدیث میں جو آیا ہے کہ رکوع میں اپنے رب کی عظمت اور سجدے میں دعا خوب کیا کرو، تو ان دونوں احادیث کو جمع کرنے سے معلوم ہوا کہ رکوع میں تسبیح و تحمید کے ساتھ ساتھ دعا جائز ہے اور ایسے ہی سجدے میں دعا کے ساتھ تسبیح و تحمید بھی۔ ➌ اس کی دوسری توجیح یہ بھی بیان ہوئی ہے کہ رکوع میں تعظیم رب اور سجدے میں کثرت دعا افضل و اولیٰ ہے اور اس مقصد کے لئے ماثور کلمات کا انتخاب ہی ارجح ہے، نوافل میں حسب مطلب بھی دعا جائز ہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں «سبحانك اللہم ربنا وبحمدك اللہم اغفر لي ” اے اللہ! ہمارے رب! تو پاک ہے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تیری تسبیح بیان کرتے ہیں، اے اللہ تو مجھے بخش دے “ کہہ رہے تھے، آپ قرآن کی عملی تفسیر فرما رہے تھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1123]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدے میں «سبحانك ربنا وبحمدك اللہم اغفر لي» ” اے ہمارے رب تیری ذات پاک ہے، اور تیری حمد کے ساتھ ہم تیری تسبیح بیان کرتے ہیں، اے اللہ تو مجھے بخش دے “ کثرت سے پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1048]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدے میں «سبحانك اللہم ربنا وبحمدك اللہم اغفر لي» ” اے اللہ ہمارے رب! تو پاک ہے اور ہم تیری تعریف کے ساتھ تیری تسبیح بیان کرتے ہیں، اے اللہ تو مجھے بخش دے “ کہہ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی عملی تفسیر فر مار ہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1124]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کی عملی تفسیر کرتے ہوئے اکثر اپنے رکوع میں «سبحانك اللهم وبحمدك اللهم اغفر لي» ” اے اللہ! تو پاک ہے، اور سب تعریف تیرے لیے ہے، اے اللہ! تو مجھے بخش دے “ پڑھتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 889]
فوائد و مسائل:
(1)
رکوع اور سجدے میں بہت سے اذکار مروی ہیں۔
ان میں سے ایک یہ بھی ہے۔
نمازی کو چاہیے کہ کبھی کوئی دعا پڑھ لے۔
کبھی کوئی۔
(2)
سورۃ نصر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔
﴿فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ ۚ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا﴾ (النصر: 3)
’’اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکیزگی بیان کیجئے۔
اور اس سے مغفرت کا سوال کیجئے۔
بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔‘‘
رسول اللہ ﷺنے اس حکم کی تعمیل اس طرح کی کہ رکوع اور سجدے میں مذکورہ بالا دعا بار بار پڑھتے رہے۔
«. . . وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول في ركوعه وسجوده: «سبحانك اللهم ربنا وبحمدك اللهم اغفر لي» . متفق عليه. . . .»
”. . . سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع و سجود میں «سبحانك اللهم ربنا وبحمدك اللهم اغفرلي» ’’ تو پاک ہے اے اللہ! اے ہمارے پروردگار! اپنی حمد و ثنا کے ساتھ۔ اے اللہ! مجھے بخش دے۔“ پڑھا کرتے۔ (بخاری و مسلم) . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/باب صفة الصلاة: 231]
«وَبِحَمْدِكَ» اس میں ”واؤ“ عاطفہ ہے۔ میں تیری پاکی بیان کرتا ہوں اور تیری حمد و توصیف میں محو ہوتا ہوں۔ اور اس کا بھی احتمال ہے کہ ”واؤ“ حالیہ ہو۔ اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ تیری پاکی بیان کرتا ہوں اس حال میں کہ میں تیری حمد وثنا میں محو ہونے والا ہوں۔ رکوع و سجود کے لیے متعدد اذکار اور دعائیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں۔ نمازی ان میں سے جسے چاہے منتخب کر سکتا ہے۔
فائدہ:
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ رکوع میں «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيْم» اور سجدے میں «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰي» کے علاوہ مذکورہ بالا دعا بھی پڑھی جا سکتی ہے بلکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ «اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ» نازل ہونے کے بعد آپ ہمیشہ رکوع و سجود میں یہ دعا پڑھتے تھے۔ [صحيح البخاري، التفسير، حديث، 9467، و مسند أحمد: 2306] نمازی ان مسنون دعاؤں میں وقتاً فوقتاً جسے چاہے پڑھ سکتا ہے۔