معجم صغير للطبراني
كتاب الرقاق— دلوں کو نرم کرنے کا بیان
باب: تنگ دست کا قرض معاف کرنے کی فضیلت کا بیان
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْقُوبَ الْمُبَارَكِيُّ ، بِبَغْدَادَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُبَارَكِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ الْخَيَّاطُ ، عَنِ الأَجْلَحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، قَالَ : الْتَقَى حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ ، وَعُقْبَةُ بْنُ عُمَرَ ، وَأَبُو مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيُّ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، فَحَدَّثَ أَحَدُهُمَا وَصَدَّقَهُ الآخَرُ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : "يُؤْتَى بِعَبْدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُوقَفُ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَيَقُولُ : مَا وَرَاؤُكَ ؟ ، فَيَقُولُ : كُنْتُ أُبَايِعُ النَّاسَ ، فَإِذَا بَايَعْتُ مُعْسِرًا تَرَكْتُ لَهُ ، وَإِذَا بَايَعْتُ مُوسِرًا أَنْظَرْتُهُ ، فَيَقُولُ اللَّهُ : أَنَا أَحَقُّ بِالتَّجَوُّزِ عَنْ عَبْدِي فَيَغْفِرُ لَهُ ، فَقَالَ الآخَرُ : صَدَقْتَ ، هَكَذَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، إِلا أَجْلَحُ ، وَلا عَنْهُ إِلا أَبُو شِهَابٍ عَبْدُ رَبِّهِ بْنِ نَافِعٍ ، تَفَرَّدَ بِهِ سُلَيْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍسیدنا حذیفہ بن الیمان، سیدنا عقبہ بن عمرو اور سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہم تینوں آپس میں ملے تو ان میں سے کسی ایک نے دوسرے کو کہا کہ جو تم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سنی ہے وہ بیان کرو تو ان میں سے ایک نے یہ حدیث بیان کی اور دوسرے نے اس کی تصدیق کی۔ حدیث یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن ایک آدمی کو لا کر اللہ کے آگے کھڑا کر دیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: ’تو نے مرنے کے بعد اپنے پیچھے کون سا عمل چھوڑا تھا؟‘ تو وہ کہے گا: اے اللہ! میں لوگوں سے خرید و فروخت کرتا تھا، جب میں کسی تنگ دست سے معاملہ کرتا تو اس کو ڈھیل دے دیتا۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’میں تو اپنے بندے سے تجاوز کرنے کا زیادہ حقدار ہوں‘، پھر اللہ تعالیٰ اس کو معاف کر دیں گے۔“ جب یہ حدیث ایک صحابی نے بیان کی تو دوسرے نے کہا: ہاں! تو نے سچ کہا، اسی طرح میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
مالدار کی تعریف میں اختلاف ہے بعض نے کہا جس کے پاس اپنا اور اپنے اہل و عیال کا خرچہ موجود ہو۔
ثوری اور ابن مبارک اور امام احمد اور اسحاق نے کہا جس کے پاس پچاش درہم ہوں۔
اور امام شافعی نے کہا کہ اس کی کوئی حد مقرر نہیں کرسکتے۔
کبھی جس کے پاس ایک درہم ہو مالدار کہلا سکتاہے جب وہ اس کے خرچ سے فاضل ہو اور کبھی ہزار رکھ کر بھی آدمی مفلس ہوتا ہے جب کہ اس کا خرچہ زیادہ ہو اور عیال بہت ہوں اور وہ قرض دار رہتا ہو۔
(1)
قرض دار اگرچہ مال دار ہی کیوں نہ ہو اس سے بھی درگزر والا معاملہ کرنا چاہیے۔
اس پر سختی نہ کی جائے۔
اگر وہ مزید مہلت طلب کرے تو خوش دلی کے ساتھ اسے مہلت دی جائے۔
(2)
مال دار کون ہے؟اس کی تعریف میں اختلاف ہے،تاہم حالات وظروف کے پیش نظر بعض اوقات انسان ایک درہم کمانے سے غنی ہوجاتا ہے اور کبھی ہزار درہم رکھنے کے باوجود فقیر رہتا ہے کیونکہ اس کے ہاں اہل وعیال کی کثرت ہوتی ہے۔
(3)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ انتہائی مہربان ہے۔
وہ معمولی سی نیکی کے عوض بہت بڑے گناہ گار کو معاف کردیتا ہے کیونکہ انسان جب اچھی نیت سے کوئی نیکی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے وہ خسارے میں نہیں رہتا۔
(4)
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ مال دار کو مہلت دینے میں اس کے ظلم کا ساتھ دیتا ہے،اس میں اجرو ثواب کی امید نہیں رکھی جاسکتی لیکن امام بخاری رحمہ اللہ نے اس موقف کی تردید فرمائی ہے اور ثابت کیا ہے کہ مال دار کو مہلت دینے میں اجر ملے گا۔
بہر حال عرف عام میں جو بھی مال دار ہو اس کے ساتھ بھی حسن سلوک اور اچھے برتاؤ سے پیش آنا چاہیے۔
(5)
حدیث کے آخر میں (قال فتجا وزواعنه)
کا ترجمہ ہم نے یہ کیا ہے: "انھوں نے بھی اس سے نرمی اختیار کی۔
"اس لفظ کی دو سورتیں ہیں: اگر (فتجا وزواعنه)
ہو اور فعل ماضی ہوتو اس کے معنی وہی ہوں گے جو ہم نے کیے ہیں،یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "فرشتوں نے اس سے نرمی اختیار کی۔
" اور(فتجا وزواعنه)
اگر فعل امر ہوتو پھر معنی ہوں گے: اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا: "تم بھی اس کے ساتھ نرمی کرو۔
"صحیح مسلم وغیرہ سے دوسرے معنی کی تائید ہوتی ہے۔
(صحیح مسلم،المساقاۃ،حدیث: 3993(1560)
حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص مر گیا تو اس سے پوچھا گیا: تم نے کیا عمل کیا ہے؟ تو اس کو یا تو یاد آیا یا یاد لایا گیا، اس نے کہا: میں سکہ اور نقد کو کھوٹ کے باوجود لے لیتا تھا، اور تنگ دست کو مہلت دیا کرتا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصدقات/حدیث: 2420]
فوائد و مسائل:
(1)
لین دین میں نرمی کرنا اللہ تعالی کی بہت پسند ہے۔
(2)
وفات کےبعد تین مشہور سوالوں (تیرارب کون ہے؟ تیرا نبی کون ہے؟ تیرا دین کیاہے؟)
کےعلاوہ بھی بعض معاملات کےبارے میں پوچھا جاتاہے۔
(3)
سکے میں چشم پوشی کا مطلب یہ ہے کہ سکے کی معمولی خرابی کونظر انداز کردیتا تھا جب کہ عام لوگ اس کس وجہ سے سکہ قبول کرنے سے انکار کردیتے تھے جس طرح آج کل گھسا ہواسکہ یا پھٹا ہوا نوٹ قبول کرنے سے انکار کردیا جاتاہے۔
(4)
اللہ کے ہاں حسن اخلاق کی بہت قدروقیمت ہے۔
(5)
مقروض کوقرض کی ادائیگی مزید مہلت دے دینا بہت بڑی نیکی ہے۔
(6)
بعض اوقات ایک نیکی انسان کو نظر میں معمولی ہوتی ہے لیکن وہ بخشش کا ذریعہ بن جاتی ہے، اس لیے چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی طرف بھی پوری توجہ دینی چاہیے۔