حدیث نمبر: 1056
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ عَلِيٍّ الْبَزَّارُ أَبُو حَامِدٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُوسَى الْقَرَوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "كُفْرٌ بامْرِئٍ ادِّعَاءٌ إِلَى نَسَبٍ لا يُعْرَفُ ، وَجَحْدُهُ وَإِنْ دَقَّ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، إِلا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی انسان کا یہ کام بھی کفر ہے کہ وہ اس نسب کا دعویٰ کرے یا انکار کرے جس کا اس کو یقینی علم نہیں، اگرچہ یہ دعویٰ صراحت سے نہ ہو۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الرقاق / حدیث: 1056
درجۂ حدیث محدثین: حسن صحيح
تخریج حدیث «حسن صحيح ، وأخرجه ابن ماجه فى «سننه» برقم: 2744، قال الشيخ الألباني: حسن صحيح ، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7140، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 7919، والطبراني فى «الصغير» برقم: 1072 ¤قال الهيثمي: من رواية عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده ، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (1 / 97)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 2744

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2744 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جو اپنے بچے کے بارے میں یہ کہہ دے کہ یہ میرا نہیں ہے اس پر وارد وعید کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کا ایسے نسب کا دعویٰ کرنا جس کو وہ پہچانتا نہیں کفر ہے یا اپنے نسب کا انکار کر دینا گرچہ اس کا سبب باریک (دقیق) ہو یہ بھی کفر ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2744]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نسب کے ثبوت یا عدم ثبوت پر بہت سے معاملات کا دارومدار ہے، اس لیے اس میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔

(2)
کفر کا مطلب یہ ہے کہ یہ کام مسلمان کی شان کے لائق نہیں، ایسے کام تو کافر کیا کرتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2744 سے ماخوذ ہے۔