حدیث نمبر: 1048
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَيْبَةَ الْمِصْرِيُّ ، بِمِصْرَ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ مُعَلَّى الْكِنْدِيِّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَاشِرَ عَشَرَةٍ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، "مَنْ أَكْيَسُ النَّاسِ وَأَحْزَمُ النَّاسِ ؟ ، فَقَالَ : أَكْثَرَهُمْ ذِكْرًا لِلْمَوْتِ ، وَأَشَدُّهُمُ اسْتِعْدَادًا لِلْمَوْتِ قَبْلَ نُزُولِ الْمَوْتِ ، أُولَئِكَ هُمُ الأَكْيَاسُ ذَهَبُوا بِشَرَفِ الدُّنْيَا وَكَرَامَةِ الآخِرَةِ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلِ ، إِلا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَلا رَوَاهُ عَنْ مُعَلَّى الْكِنْدِيِّ ، إِلا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اس وقت میں دس مسلمانوں میں دسواں تھا، تو انصار کا ایک آدمی اٹھا اور کہنے لگا: اے اللہ کے نبی! تمام لوگوں سے سمجھ دار کون ہے؟ اور سب سے ہوشیار کون ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو موت کو سب سے زیادہ یاد کرنے والا ہو، اور اس کے آنے سے پہلے اس کے لیے تیاری کرنے والا ہو، اور وہ لوگ ہوشیار ہیں جو دنیا اور آخرت کی عزت و شرافت لے گئے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الرقاق / حدیث: 1048
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، وأخرجه الطبراني فى«الكبير» برقم: 13536، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 6488، والطبراني فى «الصغير» برقم: 1008 ¤قال الهيثمي: إسناده حسن ، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (10 / 309)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 4259

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4259 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´موت کی یاد اور اس کی تیاری کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا کہ آپ کے پاس ایک انصاری شخص آیا، اس نے آپ کو سلام کیا، پھر کہنے لگا: اللہ کے رسول! مومنوں میں سے کون سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو ان میں سب سے اچھے اخلاق والا ہے ، اس نے کہا: ان میں سب سے عقلمند کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ان میں موت کو سب سے زیادہ یاد کرے، اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے سب سے اچھی تیاری کرے، وہی عقلمند ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4259]
اردو حاشہ:
فوائدو مسائل: (1)
اچھا اخلاق اللہ کے ہاں درجات کی بلندی کا باعث ہے۔

(2)
موت کا ذکر کرنے سے دل کی غفلت دور ہوتی ہے۔

(3)
موت کو یاد رکھنے سےآخرت کے لئے تیاری کرنے کی ترغیب ہوتی ہے۔

(4)
اصل عقل مندی آخرت کی نعمتیں حاصل کرنے کے لئے محنت کرنا ہے۔
دنیا کی فانی اور بے حقیقت اشیاء پر پوری توجہ لگا دینا بے وقوفی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4259 سے ماخوذ ہے۔