حدیث نمبر: 1030
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ ، يَزْدَادَ ، التُّوزِيُّ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَسَدِيُّ كُوَيْنٌ ، حَدَّثَنَا خَدِيجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : " جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَهَا ابْنَاهَا ، فَسَأَلَتْهُ ، فَأَعْطَاهَا ثَلاثَ تَمَرَاتٍ ، لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ تَمْرَةٌ ، فَأَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ تَمْرَةً ، فَأَكَلاهَا ، ثُمَّ نَظَرَا إِلَى أُمِّهِمَا ، فَشَقَّتِ التَّمْرَةَ نِصْفَيْنِ ، وَأَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا نِصْفَ تَمْرَةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : قَدْ رَحِمَهَا اللَّهُ بَرَحْمَتِهَا ابْنَيْهَا "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، إِلا خَدِيجٌ ، وَلا يُرْوَى عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی، اس کے ساتھ اس کے دو بیٹے بھی تھے، اس نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین کھجوریں دیں، گویا ان تینوں کے لیے ایک ایک کھجور تھی، اس نے اپنے بیٹوں کو ایک ایک کھجور دی۔ انہوں نے وہ کھا لیں، پھر وہ دونوں اپنی ماں کی طرف دیکھنے لگے تو اس نے تیسری کھجور پھاڑ کر دونوں میں نصف نصف بانٹ دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بیٹوں پر رحم کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس عورت پر بھی رحم کر دیا۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الرقاق / حدیث: 1030
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح ، أخرجه الطبراني فى«الكبير» برقم: 2715، والطبراني فى «الصغير» برقم: 850، وله شواهد من حديث عائشة بنت أبى بكر الصديق رضي الله عنهما ، فأما حديث عائشة بنت أبى بكر الصديق أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1418، 5995، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2630، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1915، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3668، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24689 ¤قال الهيثمي: وفيه خديج بن معاوية الجعفي وهو ضعيف ، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (8 / 158)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3668

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3668 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´باپ کو اپنے بچوں خاص کر بیٹیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا چاہئے۔`
احنف کے چچا صعصعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت اپنی دو بیٹیوں کو ساتھ لے کر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آئی، تو انہوں نے اس کو تین کھجوریں دیں، اس عورت نے ایک ایک کھجور دونوں کو دی، اور تیسری کھجور کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کے درمیان تقسیم کر دی، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں تعجب کیوں ہے؟ وہ تو اس کام کی وجہ سے جنت میں داخل ہو گئی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3668]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اولاد سے محبت فطری چیز ہے اور قابل تعریف بھی۔

(2)
بچیوں سے حسن سلوک کا ثواب جنت ہے۔

(3)
اگر زیادہ صدقہ کرنے کی طاقت نہ ہو تو تھوڑا صدقہ کرنے سے جھجکنا نہیں چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3668 سے ماخوذ ہے۔