معجم صغير للطبراني
كتاب الرقاق— دلوں کو نرم کرنے کا بیان
باب: اولاد سے رحم کرنے پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ ، يَزْدَادَ ، التُّوزِيُّ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الأَسَدِيُّ كُوَيْنٌ ، حَدَّثَنَا خَدِيجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : " جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَهَا ابْنَاهَا ، فَسَأَلَتْهُ ، فَأَعْطَاهَا ثَلاثَ تَمَرَاتٍ ، لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ تَمْرَةٌ ، فَأَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ تَمْرَةً ، فَأَكَلاهَا ، ثُمَّ نَظَرَا إِلَى أُمِّهِمَا ، فَشَقَّتِ التَّمْرَةَ نِصْفَيْنِ ، وَأَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا نِصْفَ تَمْرَةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : قَدْ رَحِمَهَا اللَّهُ بَرَحْمَتِهَا ابْنَيْهَا "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، إِلا خَدِيجٌ ، وَلا يُرْوَى عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِسیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی، اس کے ساتھ اس کے دو بیٹے بھی تھے، اس نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تین کھجوریں دیں، گویا ان تینوں کے لیے ایک ایک کھجور تھی، اس نے اپنے بیٹوں کو ایک ایک کھجور دی۔ انہوں نے وہ کھا لیں، پھر وہ دونوں اپنی ماں کی طرف دیکھنے لگے تو اس نے تیسری کھجور پھاڑ کر دونوں میں نصف نصف بانٹ دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بیٹوں پر رحم کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس عورت پر بھی رحم کر دیا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
احنف کے چچا صعصعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت اپنی دو بیٹیوں کو ساتھ لے کر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آئی، تو انہوں نے اس کو تین کھجوریں دیں، اس عورت نے ایک ایک کھجور دونوں کو دی، اور تیسری کھجور کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کے درمیان تقسیم کر دی، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمہیں تعجب کیوں ہے؟ وہ تو اس کام کی وجہ سے جنت میں داخل ہو گئی “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3668]
فوائد و مسائل:
(1)
اولاد سے محبت فطری چیز ہے اور قابل تعریف بھی۔
(2)
بچیوں سے حسن سلوک کا ثواب جنت ہے۔
(3)
اگر زیادہ صدقہ کرنے کی طاقت نہ ہو تو تھوڑا صدقہ کرنے سے جھجکنا نہیں چاہیے۔