معجم صغير للطبراني
كتاب الرقاق— دلوں کو نرم کرنے کا بیان
باب: لمبی عمر کے ساتھ اچھے اعمال کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1028
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الأَعْلَمُ الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ ، وَحُمَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ رَجُلا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، "أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ ؟ ، قَالَ : مَنْ طَالَ عُمْرُهُ ، وَحَسُنَ عَمَلُهُ ، قَالَ : وَأَيُّ النَّاسِ شَرٌّ ، قَالَ : مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَسَاءَ عَمَلُهُ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يُونُسَ ، إِلا حَمَّادٌترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ! کون سا آدمی سب سے بہتر ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی عمر لمبی ہو اور عمل اچھا ہو۔“ اس نے کہا: اور برا کون ہے؟ فرمایا: ”جس کی عمر لمبی ہو اور عمل برا ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2330 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´لمبی عمر والا اچھے اعمال کے ساتھ سب سے اچھا آدمی ہے اور برے کام کے ساتھ سب سے برا۔`
ابوبکرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے بہتر شخص کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ” جس کی عمر لمبی ہو اور عمل نیک ہو “، اس آدمی نے پھر پوچھا کہ لوگوں میں سب سے بدتر شخص کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ” جس کی عمر لمبی ہو اور عمل برا ہو “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2330]
ابوبکرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے بہتر شخص کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ” جس کی عمر لمبی ہو اور عمل نیک ہو “، اس آدمی نے پھر پوچھا کہ لوگوں میں سب سے بدتر شخص کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ” جس کی عمر لمبی ہو اور عمل برا ہو “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2330]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ایک تاجرکی نگاہ میں رأس المال اورسرمایہ کی جوحیثیت ہے وہی حیثیت اورمقام وقت کاہے، تاجر اپنے سرمایہ کو ہمیشہ بڑھانے کا خواہشمند ہوتا ہے، اسی طرح لمبی مدت پانے والے کو چاہئے کہ اس کے اوقات زیادہ سے زیادہ نیکی کے کاموں میں گزریں، اگر اس نے اپنی زندگی کے اس سرمایہ کو اسی طرح باقی رکھا تو جس طرح سرمایہ بڑھانے کا خواہشمند تاجر اکثر نفع کماتا ہے، اسی طرح یہ بھی فائدہ ہی حاصل کرتا رہے گا۔
نوٹ:
(سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر جیسے سابقہ حدیث سے یہ حدیث صحیح ہے)
وضاحت:
1؎:
ایک تاجرکی نگاہ میں رأس المال اورسرمایہ کی جوحیثیت ہے وہی حیثیت اورمقام وقت کاہے، تاجر اپنے سرمایہ کو ہمیشہ بڑھانے کا خواہشمند ہوتا ہے، اسی طرح لمبی مدت پانے والے کو چاہئے کہ اس کے اوقات زیادہ سے زیادہ نیکی کے کاموں میں گزریں، اگر اس نے اپنی زندگی کے اس سرمایہ کو اسی طرح باقی رکھا تو جس طرح سرمایہ بڑھانے کا خواہشمند تاجر اکثر نفع کماتا ہے، اسی طرح یہ بھی فائدہ ہی حاصل کرتا رہے گا۔
نوٹ:
(سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر جیسے سابقہ حدیث سے یہ حدیث صحیح ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2330 سے ماخوذ ہے۔