معجم صغير للطبراني
كتاب الرقاق— دلوں کو نرم کرنے کا بیان
باب: زبان اور شرمگاہ کی حفاظت جنّت کی ضمانت ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 1024
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا الْمُطَرِّزُ الْمُقْرِئُ أَبُو مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ سِقْلابٍ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "مَنْ ضَمِنَ لِي مَا بَيْنَ لِحْيَتِهِ وَرِجْلَيْهِ ضَمِنْتُ لَهُ الْجَنَّةَ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنِ عَمْرٍو ، إِلا مَعْقِلٌ ، تَفَرَّدَ بِهِ الْمُغِيرَةُ بْنُ سِقْلابٍترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے دو جبڑوں کے درمیان (زبان) اور دو ٹانگوں کے درمیان والی چیز (شرمگاہ) کا میرے لیے ضامن ہو جائے تو میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہو جاتا ہوں۔“
حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الرقاق / حدیث: 1024
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6474 | صحيح البخاري: 6807 | سنن ترمذي: 2408
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6807 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6807. حضرت سہل بن سعد ساعدی ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے مجھے اپنے دونوں پاؤں کے درمیان (شرمگاہ) اور اپنے دونوں جبڑوں کے درمیان (زبان) کی ضمانت دی تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:6807]
حدیث حاشیہ:
انسان عام طور پر زبان اور شرمگاہ کے ذریعےسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے، ان دونوں کی ضمانت دینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ فحش کاری اور فحش کلامی کو ترک کر دے۔
ان دونوں سے بے حد گندے کاموں سے بچنے کی فضیلت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جنت میں جانے کی ضمانت دی ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے فواحش ومنکرات کو چھوڑنے کی فضیلت اس حدیث سے ثابت کی ہے۔
واللہ أعلم
انسان عام طور پر زبان اور شرمگاہ کے ذریعےسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے، ان دونوں کی ضمانت دینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ فحش کاری اور فحش کلامی کو ترک کر دے۔
ان دونوں سے بے حد گندے کاموں سے بچنے کی فضیلت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جنت میں جانے کی ضمانت دی ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے فواحش ومنکرات کو چھوڑنے کی فضیلت اس حدیث سے ثابت کی ہے۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6807 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6474 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6474. حضرت سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے وہ رسول اللہ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جو شخص مجھے اپنے دونوں جبڑوں کے درمیان ٹانگوں کے درمیان کی ضمانت دے دے میں اس کے لیے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔“[صحيح بخاري، حديث نمبر:6474]
حدیث حاشیہ:
(1)
انسانی اعضاء میں زبان کے علاوہ جس عضو کی حفاظت کو خاص اہمیت حاصل ہے وہ انسان کی شرمگاہ ہے، اس لیے اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں اعضاء کی ضمانت بیان فرمائی ہے کہ جو بندہ اس کا ذمہ لے لے کہ وہ اپنی زبان کی بھی حفاظت کرے گا اور شہوت نفس کو بھی لگام دے گا میں اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت کا ذمہ لیتا ہوں۔
(2)
یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قسم کے ارشادات کے مخاطب وہ اہل ایمان ہیں جو ایمان کے بنیادی مطالبات کو ادا کرتے ہیں، ایک دفعہ کسی صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نجات کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ’’اپنی زبان پر قابو رکھو۔
‘‘ (مسند أحمد: 259/5)
(1)
انسانی اعضاء میں زبان کے علاوہ جس عضو کی حفاظت کو خاص اہمیت حاصل ہے وہ انسان کی شرمگاہ ہے، اس لیے اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں اعضاء کی ضمانت بیان فرمائی ہے کہ جو بندہ اس کا ذمہ لے لے کہ وہ اپنی زبان کی بھی حفاظت کرے گا اور شہوت نفس کو بھی لگام دے گا میں اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت کا ذمہ لیتا ہوں۔
(2)
یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قسم کے ارشادات کے مخاطب وہ اہل ایمان ہیں جو ایمان کے بنیادی مطالبات کو ادا کرتے ہیں، ایک دفعہ کسی صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نجات کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا: ’’اپنی زبان پر قابو رکھو۔
‘‘ (مسند أحمد: 259/5)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6474 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2408 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´زبان کی حفاظت کا بیان۔`
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو مجھ سے اپنی دونوں ڈاڑھوں اور دونوں ٹانگوں کے بیچ کا ضامن ہو میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2408]
سہل بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو مجھ سے اپنی دونوں ڈاڑھوں اور دونوں ٹانگوں کے بیچ کا ضامن ہو میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2408]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
چونکہ زبان اورشرمگاہ گناہوں کے صدورکا اصل مرکزہیں، اسی لیے ان کی حفاظت کی زیادہ ضرورت ہے، اور اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپﷺ نے ان دونوں کی حفاظت کی ضمانت دینے والوں کے لیے جنت کی ضمانت دی ہے۔
وضاحت:
1؎:
چونکہ زبان اورشرمگاہ گناہوں کے صدورکا اصل مرکزہیں، اسی لیے ان کی حفاظت کی زیادہ ضرورت ہے، اور اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپﷺ نے ان دونوں کی حفاظت کی ضمانت دینے والوں کے لیے جنت کی ضمانت دی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2408 سے ماخوذ ہے۔