حدیث نمبر: 1014
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْفَوَارِسِ الْحِمْصِيُّ ، بأَصْبَهَانَ ، حَدَّثَنَا بَكَّارُ ابْنُ الْحَسَنِ بْنِ عُثْمَانَ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ مُسَافِرٍ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : "مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُشَاكُ شَوْكَةً إِلا كَتَبَ اللَّهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ ، وَكَفَّرَ عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ ، وَرَفَعَ لَهُ بِهَا عَشْرَ دَرَجَاتٍ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ حَمَّادٍ ، إِلا رَوْحٌ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”مسلمان کو اگر کانٹا بھی چبھ جائے تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض دس نیکیاں لکھ دیتا ہے اور دس برائیاں دور کر دیتا ہے اور دس درجے بلند کر دیتا ہے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الرقاق / حدیث: 1014
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الطبراني فى «الأوسط» برقم: 2240، 2460، 5773، والطبراني فى «الصغير» برقم: 702 ¤قال الهيثمي: وفيه روح بن مسافر وهو ضعيف ، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (2 / 304)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5640 | صحيح مسلم: 2572 | سنن ترمذي: 965

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2572 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت اسود رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں،کچھ قریشی نوجوان منیٰ میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس ہنستے ہوئے گئے تو انہوں نے پوچھا،کیوں ہنستے ہو؟انہوں نے کہا،فلاں انسان خیمہ کی طناب(رسی) پرگرپڑا اور قریب تھا اس کی گردن یا اس کی آنکھ ضائع ہوجاتی۔تو انہوں نے فرمایا:مت ہنسو،کیونکہ میں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئےسنا:"جس مسلمان کو بھی کانٹا یا اس سے بڑی چیز چبتی ہے یا اس سے کم تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے لیے اس کے سبب ایک درجہ لکھ دیا جاتا ہے اور اس کے سبب اس کی ایک... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6561]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
طنب: طناب رسی۔
(2)
فسطاط: بڑاخیمہ۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2572 سے ماخوذ ہے۔