حدیث نمبر: 1011
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصِّنَامِ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ الْفَاخُورِيُّ الرَّمْلِيُّ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَرْطَاةَ بْنِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الأَلْهَانِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ : "لأُلْفِيَّنَ أَقْوَامًا مِنْ أُمَّتِي يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَسَنَاتٍ أَمْثَالِ جِبَالِ تِهَامَةَ فَيَجْعَلُهَا اللَّهُ هَبَاءً مَنْثُورًا ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صِفْهُمْ لَنَا لِكَيْ لا نَكُونُ مِنْهُمْ ، وَنَحْنُ لا نَعْلَمُ ، فَقَالَ : أَمَا إِنَّهُمْ مِنْ إِخْوَانِكُمْ ، وَلَكِنَّهُمْ أَقْوَامٌ إِذَا خَلَوْا بِمَحَارِمِ اللَّهِ انْتَهَكُوهَا "، لا يُرْوَى عَنْ ثَوْبَانَ ، إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ ، تَفَرَّدَ بِهِ عُقْبَةُ ، وَاسْمُ أَبِي عَامِرٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَحْيَى ، وَيُقَالُ : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں، کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اپنی امت میں سے ایسے لوگ نہیں چاہتا جو قیامت کے دن تہامہ پہاڑ جیسی نیکیاں لے کر آئیں اور اللہ تعالیٰ ان نیکیوں کو بکھرا ہوا کوڑا کرکٹ بنا دے۔“ صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ! ہمیں بتائیے وہ کن اوصاف والے ہیں تاکہ ہم ان جیسے نہ ہوں، جب کہ ہمیں ان کا علم نہیں ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تمہارے بھائیوں میں سے ہیں، وہ ایسے لوگ ہیں کہ جب وہ خلوت اختیار کرتے ہیں تو اللہ کی حرام کردہ چیز کا ارتکاب کرتے ہیں۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الرقاق / حدیث: 1011
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه ابن ماجه فى «سننه» برقم: 4245، قال الشيخ الألباني: صحيح ، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 4632، والطبراني فى «الصغير» برقم: 662، مسند شامين برقم: 680»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 4245

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4245 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´گناہوں کو یاد کرنے کا بیان۔`
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنی امت میں سے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو قیامت کے دن تہامہ کے پہاڑوں کے برابر نیکیاں لے کر آئیں گے، اللہ تعالیٰ ان کو فضا میں اڑتے ہوئے ذرے کی طرح بنا دے گا ، ثوبان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان لوگوں کا حال ہم سے بیان فرمائیے اور کھول کر بیان فرمایئے تاکہ لاعلمی اور جہالت کی وجہ سے ہم ان میں سے نہ ہو جائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جان لو کہ وہ تمہارے بھائیوں میں سے ہی ہیں، اور تمہاری قوم میں سے ہیں، وہ بھی راتوں کو اسی طرح عبادت کریں گے، جیسے تم عبا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4245]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بہت سے گناہ نیکیوں کو ضائع کردیتے ہیں۔

(2)
لوگوں کے سامنے نیک بنے رہنا اور تنہائی میں گناہ کاارتکاب، بے تکلف کرلینا یہ بھی ایک قسم کی منافقت ہے۔
جس کی وجہ سے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔

(3)
تہجد پڑھنا نیکی ہے۔
لیکن اس سے زیادہ ضروری تنہائی میں تقویٰ پر قائم رہنا ہے۔

(4)
اصل تقویٰ یہی ہے۔
کہ انسان اس وقت بھی گناہ سے باز رہے جب اسے دیکھنے والا کوئی نہ ہو۔

(5)
نیکیوں کو غبار میں تبدیل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کو قبول نہیں فرمائے گا۔
اس لئے وہ بے وزن ہوجایئں گی اگرچہ دیکھنے میں وہ پہاڑوں جیسی عظیم اور سفید ہوں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4245 سے ماخوذ ہے۔