معجم صغير للطبراني
كتاب الرقاق— دلوں کو نرم کرنے کا بیان
باب: آخرت کے مقابلے میں دنیا کی حیثیت کا بیان
حدیث نمبر: 1008
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ رُسْتُمَ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْهُذَيْلِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَيُّوبَ الفَرَسَانِيُّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ عَبْدِ السَّلامِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْمِغْوَلِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الْمُسْتَوْرِدُ بْنُ شَدَّادٍ الْفِهْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " وَاللَّهِ ، مَا الدُّنْيَا مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا فِي الآخِرَةِ إِلا كَمَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ أُصْبُعَهُ فِي الْيَمِّ ، فَلْيَنْظُرْ بِمَا يَرْجِعُ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلِ ، إِلا النُّعْمَانُترجمہ: عبدالصمد ریالوی
سیدنا مستورد بن شداد فہری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اللہ کی قسم! تمام دنیا اول سے آخر تک آخرت کے مقابلے میں اتنی بھی نہیں کہ کوئی شخص اپنی انگلی سمندر میں ڈال کر دیکھے کہ اس کے ساتھ کیا لگا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2858 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
امام صاحب اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے بنو فہر کے فرد حضرت مستور رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اللہ کی قسم! دنیا کی آخرت کے مقابلہ میں مثال بس ایسی ہے جیسا کہ تم میں سے کوئی اپنی ایک انگلی دریا میں ڈال کر نکال لے یحییٰ نے شہادت کی انگلی کی طرف اشارہ کیا پھر دیکھ لے، پانی کی کتنی مقدار اس کے ساتھ لگ کر آئی ہے۔ اسامہ کی حدیث میں ہے اسماعیل نے انگوٹھے سے اشارہ کیا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:7197]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: مطلب یہ ہے کہ دنیا کی مدت اور لذات آخرت کے دوام و ہمیشگی اور اس کی نعمتوں کے مقابلہ میں اتنی ہی بے حقیقت اور بے وقعت ہیں، جتنا کے دریا کے مقابلہ میں انگلی پر لگا پانی اور یہ مثال بھی درحقیقت صرف سمجھانے کے لیے دی گئی ہے، ورنہ دراصل دنیا کو آخرت کے مقابلہ میں یہ نسبت بھی نہیں ہے، کیونکہ یہ دنیا اور اس کی ہر چیز محدود اور متناہی، یعنی فانی اور عارضی ہے اور آخرت لامحدود اور غیر متناہی، یعنی دائمی اور ابدی ہے اور ریاضی کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ محدودو متناہی کو لا محدود اور غیر متناہی کے ساتھ کوئی نسبت نہیں دی جا سکتی، اب اس شخص سے زیادہ محروم اور خسارہ والا کون ہو سکتا ہے، جو دنیا کو حاصل کرنے کے لیے تو خوب جدوجہد کرتا ہے، مگر آخرت کی تیاری کی طرف سے بالکل غافل، بے نیاز اور لاپرواہ ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2858 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2323 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´آخرت کے مقابلے میں دنیا سمندر کے ایک قطرے کی مانند ہے۔`
مستورد بن شداد فہری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” دنیا کی مثال آخرت کے سامنے ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنی انگلی سمندر میں ڈبوئے اور پھر دیکھے کہ اس کی انگلی سمندر کا کتنا پانی اپنے ساتھ لائی ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2323]
مستورد بن شداد فہری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” دنیا کی مثال آخرت کے سامنے ایسی ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنی انگلی سمندر میں ڈبوئے اور پھر دیکھے کہ اس کی انگلی سمندر کا کتنا پانی اپنے ساتھ لائی ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2323]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں آخرت کی نعمتوں اور اس کی دائمی زندگی کے مقابلے میں دنیا کی قدروقیمت اور اس کی زندگی کا تناسب بیان کیا گیا ہے، یہ تناسب ایسے ہی ہے جیسے ایک قطرہ پانی اور سمندرکے پانی کے درمیان تناسب ہے۔
وضاحت:
1؎:
اس حدیث میں آخرت کی نعمتوں اور اس کی دائمی زندگی کے مقابلے میں دنیا کی قدروقیمت اور اس کی زندگی کا تناسب بیان کیا گیا ہے، یہ تناسب ایسے ہی ہے جیسے ایک قطرہ پانی اور سمندرکے پانی کے درمیان تناسب ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2323 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4108 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´دنیا کی مثال۔`
مستورد رضی اللہ عنہ (جو بنی فہر کے ایک فرد تھے) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ” دنیا کی مثال آخرت کے مقابلے میں ایسی ہی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے، اور پھر دیکھے کہ کتنا پانی اس کی انگلی میں واپس آتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4108]
مستورد رضی اللہ عنہ (جو بنی فہر کے ایک فرد تھے) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ” دنیا کی مثال آخرت کے مقابلے میں ایسی ہی ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی انگلی سمندر میں ڈالے، اور پھر دیکھے کہ کتنا پانی اس کی انگلی میں واپس آتا ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4108]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
دنیا کی زندگی انتہائی قلیل ہےجب کہ آخرت کی زندگی ابدی ہے جس کی انتہا نہیں۔
(2)
جنت کی نعمتیں دنیا کی نعمتوں کے مقابلے میں اس قدر قیمتی ہیں کہ جنت میں چند انچ خالی زمین کی قیمت دنیا کی تمام دولت اور خزانوں سے زیادہ ہے پھر اس کے محلات اور باغات اور ان میں موجود نعمتیں، پاک باز بیویاں، خدام وغیرہ ان کی قدر وقیمت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
خصوصاً دیدار الہی تو ایسی ہے کہ اس کے مقابلے میں جنت کی بڑی نعمت ہیچ ہے۔
(3)
مثال دیکر بیان کرنے سے مسئلہ زیادہ واضح اور قابل فہم ہوجاتا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
دنیا کی زندگی انتہائی قلیل ہےجب کہ آخرت کی زندگی ابدی ہے جس کی انتہا نہیں۔
(2)
جنت کی نعمتیں دنیا کی نعمتوں کے مقابلے میں اس قدر قیمتی ہیں کہ جنت میں چند انچ خالی زمین کی قیمت دنیا کی تمام دولت اور خزانوں سے زیادہ ہے پھر اس کے محلات اور باغات اور ان میں موجود نعمتیں، پاک باز بیویاں، خدام وغیرہ ان کی قدر وقیمت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
خصوصاً دیدار الہی تو ایسی ہے کہ اس کے مقابلے میں جنت کی بڑی نعمت ہیچ ہے۔
(3)
مثال دیکر بیان کرنے سے مسئلہ زیادہ واضح اور قابل فہم ہوجاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4108 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 878 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
878- سیدنا مستور دفہری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”آخرت کے مقابلے میں دنیا کی حیثیت اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص اپنی انگلی کو سمندر میں ڈالے اور پھر اس بات کا جائزہ لے کہ اس انگلی پر کتنا پانی آیا ہے؟“ سفیان کہتے ہیں: ابن ابوخالد یہ روایت نقل کرتے ہوئے یہ کہتے تھے کہ میں نے یہ روایت سیدنا مستورد رضی اللہ عنہ سے سنی ہے جن کا تعلق بنو فہر سے ہے، تو وہ یہ الفاظ استعمال کرتے ہوئے لفظی غلطی کر جاتے تھے۔ [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:878]
فائدہ:
① دنیا کی زندگی انتہائی قلیل ہے جبکہ آخرت کی زندگی ابدی ہے جس کی انتہا نہیں۔
② جنت کی نعمتیں دنیا کی نعمتوں کے مقابلے میں اس قدر قیمتی ہیں کہ جنت میں چند انچ خالی زمین کی قیمت دنیا کی تمام دولت اور خزانوں سے زیادہ ہے پھر اس کے محلات اور باغات اور ان میں موجود پاک باز بیویاں، خدام وغیرہ ان کی قدر و قیمت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ خصوصا دیدار الہٰی کی نعمت توایسی ہے کہ اس کے مقابلے میں جنت کی بڑی سے بڑی نعمت ہیچ ہے۔ مثال دے کر بیان کرنے سے مسئلہ زیادہ قابل فہم ہو جاتا ہے۔
① دنیا کی زندگی انتہائی قلیل ہے جبکہ آخرت کی زندگی ابدی ہے جس کی انتہا نہیں۔
② جنت کی نعمتیں دنیا کی نعمتوں کے مقابلے میں اس قدر قیمتی ہیں کہ جنت میں چند انچ خالی زمین کی قیمت دنیا کی تمام دولت اور خزانوں سے زیادہ ہے پھر اس کے محلات اور باغات اور ان میں موجود پاک باز بیویاں، خدام وغیرہ ان کی قدر و قیمت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ خصوصا دیدار الہٰی کی نعمت توایسی ہے کہ اس کے مقابلے میں جنت کی بڑی سے بڑی نعمت ہیچ ہے۔ مثال دے کر بیان کرنے سے مسئلہ زیادہ قابل فہم ہو جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 877 سے ماخوذ ہے۔