حدیث نمبر: 1000
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "لَوْ أَنَّ لابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ لَتَمَنَّى إِلَيْهِمَا الثَّالِثَ ، وَلا يَمْلأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلا التُّرَابُ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ "، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، إِلا سُفْيَانُ ، وَلا عَنْهُ إِلا حَامِدٌ ، تَفَرَّدَ بِهِ الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ
ترجمہ: عبدالصمد ریالوی

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ابن آدم کی دو وادیاں مال ہو تو پھر بھی وہ آرزو کرے گا کہ مجھے ایک تیسری وادی بھی مل جائے۔ ابن آدم کے پیٹ کو صرف مٹی ہی بھر سکتی ہے، اور جو توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔“

حوالہ حدیث معجم صغير للطبراني / كتاب الرقاق / حدیث: 1000
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه الطبراني فى «الأوسط» برقم: 3473، والطبراني فى «الصغير» برقم: 390، وله شواهد من حديث عبد الله بن عباس، فأما حديث عبد الله بن عباس ، أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6436، 6437، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1049، وأحمد فى «مسنده» برقم: 3570، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3231 ¤قال الهيثمي: رجاله رجال الصحيح غير حامد بن يحيى البلخي وهو ثقة ، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد: (10 / 244)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6436 | صحيح البخاري: 6437 | صحيح مسلم: 1049

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6437 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6437. حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی سے روایت ہے انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’اگر ابن آدم کے پاس مال کی بھری ہوئی وادی ہو تو وہ خواہش کرے گا کہ اتنا ہی مال اس کے پاس مزید ہو۔ انسان کی آنکھ مٹی کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔ اور جو اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔‘‘ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں کہ یہ ارشادات قرآن سے ہیں یا نہیں۔ انھوں نے بیان کیا کہ میں نے ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ ارشادات منبر پر کہتے سنا تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6437]
حدیث حاشیہ: سورۃ تکاثر کے نزول سے پہلے اس عبارت کو قرآن کی طرح تلاوت کیا جاتا رہا۔
پھر سورۃ تکاثر کے نزول کے بعد اس کی تلاوت منسوخ ہوگئی۔
مضمون ایک ہی ہے انسان کے حرص اور طمع کا بیان ہے۔
احادیث ذیل میں مزید وضاحت موجود ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6437 سے ماخوذ ہے۔