المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب من روى عن ابن مسعود أنه لم يكن مع النبي صلى الله عليه وسلم ليلة الجن باب: جس نے روایت کیا کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ لیلۃ الجن میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ نہیں تھے
حدیث نمبر: 9992
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الْمِصِّيصِيُّ، ثنا الْيَمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «أَوْصَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُصْبِحَ يَوْمَ صَوْمِي دَهِينًا مُتَرَجِّلًا، وَلَا تُصْبِحْ يَوْمَ صَوْمِكَ عَبُوسًا، وَأَجِبْ دَعْوَةَ مَنْ دَعَاكَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مَا لَمْ يُظْهِرُوا الْمَعَازِفَ، فَإِذَا أَظْهَرُوا الْمَعَازِفَ فَلَا تُجِبْهُمْ، وَصَلِّ عَلَى مَنْ مَاتَ مِنْ قِبْلَتِنَا، وَإِنْ قُتِلَ مَصْلُوبًا أَوْ مَرْجُومًا، فَلَأَنْ تَلْقَى اللهَ بِمِثْلِ قُرَابِ الْأَرْضِ ذُنُوبًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَبُتَّ الشَّهَادَةَ عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ»ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے مجھے وصیت فرمائی کہ اپنے روزے کے دن تیل لگا کر اور کنگھی کر کے صبح کرو، اور اپنے روزے کے دن ترش رو ہو کر صبح نہ کرو۔ اور جو مسلمان تمہیں دعوت دے اس کی دعوت قبول کرو جب تک وہ باجے نہ بجائیں، اور جب باجے بجانے لگیں تو ان کی دعوت قبول نہ کرو۔ اور ہمارے قبلے کی طرف رخ کر کے مرنے والے کی نماز جنازہ پڑھو، خواہ وہ سولی چڑھا کر یا سنگسار کر کے قتل کیا گیا ہو؛ کیونکہ اگر تم زمین بھر کر گناہوں کے ساتھ اللہ سے ملو، یہ اس سے بہتر ہے کہ تم اہلِ قبلہ میں سے کسی ایک کے خلاف کوئی حتمی گواہی دے بیٹھو۔“