المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب من روى عن ابن مسعود أنه لم يكن مع النبي صلى الله عليه وسلم ليلة الجن باب: جس نے روایت کیا کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ لیلۃ الجن میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ نہیں تھے
حدیث نمبر: 9953
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا بَرَكَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ أَسْبَاطٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: أَتَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، فَإِذَا بَيْنَ يَدَيْهِ قَصْعَةُ ثَرِيدٍ وَعُرَاوٍ، قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، أَلَيْسَ هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ؟ قَالَ: «نَعَمْ، كُنَّا نَصُومُهُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ شَهْرُ رَمَضَانَ، فَلَمَّا فُرِضَ شَهْرُ رَمَضَانَ نَسَخَهُ» ، ثُمَّ قَالَ: اقْعُدْ، فَقَعَدْتُ وَأَكَلْتُترجمہ
علقمہ کہتے ہیں: میں عاشوراء کے دن سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، تو ان کے سامنے تھریدے اور بغیر پکے گوشت کا ایک پیالہ رکھا تھا۔ میں نے پوچھا: اے ابو عبدالرحمٰن! کیا یہ عاشوراء کا دن نہیں؟ فرمایا: ”ہاں، ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان کے فرض ہونے سے پہلے اس کا روزہ رکھا کرتے تھے، جب رمضان فرض ہوا تو اس نے اس کو منسوخ کر دیا۔“ پھر فرمایا: بیٹھ جاؤ۔ میں بیٹھا اور کھانا کھایا۔