المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أرطأة بن المنذر السكوني، ويقال لقيط بن أرطأة باب: سیدنا ارطاۃ بن منذر سکونی رضی اللہ عنہ، اور کہا جاتا ہے: لقیط بن ارطاۃ
حدیث نمبر: 994
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا مَسْلَمَةُ بْنُ عُلَيٍّ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنِ ابْنِ عَائِذٍ، عَنْ أَخِيهِ أَرْطَاةَ بْنِ الْمُنْذِرِ السَّكُونِيِّ، أَنَّ آتِيًا أَتَاهُ، فَقَالَ: إِنَّ لَنَا جَارًا يَشْرَبُ الْخَمْرَ، وَيَأْتِي الْقَبِيحَ، فَأُنْهِيَ أَمْرُهُ إِلَى السُّلْطَانِ؟ قَالَ: «لَقَدْ قَتَلْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، مَا يَسُرُّنِي أَنِّي قَتَلْتُ مَثَلُهُمْ، وَأَنِّي كَشَفْتُ قِنَاعَ مُسْلِمٍ»ترجمہ
راوی بیان کرتے ہیں کہ ان کے بھائی سیدنا ارطاۃ بن منذر سکونی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور کہا: ہمارا ایک پڑوسی ہے جو شراب پیتا ہے اور برے کام کرتا ہے، کیا اس کا معاملہ حکمران تک پہنچایا جائے؟ انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ننانوے مشرکین کو قتل کیا ہے، مجھے یہ پسند نہیں کہ میں ان جیسے مزید قتل کر دوں اور کسی مسلمان کا پردہ فاش کر دوں۔“