حدیث نمبر: 9874
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِمَ فَوَاتِحَ الْخَيْرِ وَجَوَامِعَهُ، أَوَ جَوَامِعَ الْخَيْرِ وَفَوَاتِحَهُ، وَإِنَّا كُنَّا لَا نَدْرِي مَا نَقُولُ فِي صَلَاتِنَا حَتَّى عَلَّمَنَا فَقَالَ: " قُولُوا: التَّحِيَّاتُ " فَذَكَرَ مِثْلَهُ
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو خیر کی ابتدائیں اور جامع باتیں - یا جامع باتیں اور ابتدائیں - سکھائی گئی تھیں، اور ہمیں معلوم نہ تھا کہ اپنی نماز میں کیا کہیں یہاں تک کہ آپ ﷺ نے ہمیں سکھایا اور فرمایا: ”کہو: التحیات“ پھر (راوی نے) اسی جیسی حدیث بیان کی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9874
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 46، حدیث 9910