حدیث نمبر: 9792
حَدَّثَنَا أَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا أَبُو الْأَشْهَبِ جَعْفَرُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَادَ أَوَ نَقَصَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟ قَالَ: «لَوْ حَدَثَ لَأَنْبَأْتُكُمْ، إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَأَيُّكُمْ صَلَّى فَزَادَ أَوَ نَقَصَ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ فَلْيُتِمَّ وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ» .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی اور اس میں کمی یا زیادتی کر دی، جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! کیا نماز میں کوئی نئی بات پیش آئی؟ فرمایا: ”اگر ایسا ہوتا تو میں تمہیں ضرور بتا دیتا، میں تو بس ایک انسان ہوں، بھول جاتا ہوں جیسے تم بھول جاتے ہو، پس تم میں سے جو نماز پڑھے اور کمی یا زیادتی کر بیٹھے تو وہ درست بات کی کھوج لگائے، اسے مکمل کرے اور سہو کے دو سجدے کرے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 9792
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 10، صفحہ 26، حدیث 9828