المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 9766–9906) باب: (احادیث 9766 تا 9906)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو جَنَابٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي حَيَّةَ الْكَلْبِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عَوْنَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: سَأَلْتُ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ: هَلْ كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يُفَضِّلُ عَمَلًا عَلَى عَمَلٍ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّهَا إِلَى اللهِ وَأَقْرَبُهَا؟ قَالَ: «الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا» ، قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا عَلَى أَثَرِ ذَلِكَ؟ قَالَ: «ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ» ، قُلْتُ: ثُمُّ مَاذَا عَلَى أَثَرِ ذَلِكَ؟ قَالَ: «الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ» ، وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي
قُلْتُ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَبْغَضُهَا إِلَى اللهِ وَأَبْعَدُهَا مِنَ اللهِ؟ قَالَ: «أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ، وَأَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ خَشْيَةَ أَنْ يَأْكُلَ مَعَكَ، وَأَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ» ، ثُمَّ قَرَأَ {وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا} [الفرقان: ٦٨]عون بن عبداللہ کہتے ہیں: میں نے اسود بن یزید رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک عمل کو دوسرے عمل پر فضیلت دیتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا: یا رسول اللہ! کون سا عمل اللہ کو سب سے زیادہ محبوب اور اس کے سب سے قریب ہے؟ فرمایا: ”نماز اپنے وقت پر پڑھنا۔“ میں نے عرض کیا: پھر اس کے بعد کیا؟ فرمایا: ”پھر والدین کے ساتھ نیک سلوک۔“ میں نے عرض کیا: پھر اس کے بعد کیا؟ فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد۔“ اور اگر میں مزید پوچھتا تو آپ ﷺ مزید بتا دیتے۔
میں نے عرض کیا: کون سا عمل اللہ کو سب سے زیادہ ناپسند اور اس سے سب سے دور ہے؟ فرمایا: ”یہ کہ تو اللہ کا شریک ٹھہرائے حالانکہ اسی نے تجھے پیدا کیا، اور یہ کہ تو اپنی اولاد کو اس ڈر سے قتل کر دے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گی، اور یہ کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے۔“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی: ”اور وہ جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے، اور نہ کسی ایسی جان کو ناحق قتل کرتے ہیں جسے اللہ نے حرام کیا ہے، اور نہ زنا کرتے ہیں، اور جو ایسا کرے وہ سخت گناہ کا بوجھ اٹھائے گا“ [سورۃ الفرقان: 68]۔