المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمرو بن الشريد، عن أبي رافع باب: عمرو بن شرید کی سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، قَالُوا: ثنا سُفْيَانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ، قَالَ: أَخَذَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ بِيَدِي، فَقَالَ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، فَخَرَجْتُ مَعَهُ وَإِنَّ يَدَهُ لَعَلَى أَحَدِ مَنْكِبِيَّ، فَجَاءَ أَبُو رَافِعٍ فَقَالَ لِلْمِسْوَرِ: أَلَا تَأْمُرُ هَذَا - يَعْنِي سَعْدًا - يَشْرِي مِنِّي بَيْتَيَّ اللَّذَيْنِ فِي دَارِهِ؟ فَقَالَ سَعْدٌ: لَا وَاللهِ أَزِيدُكُ عَلَى أَرْبَعِ مِئَةِ دِينَارٍ - إِمَّا قَالَ: مُقَطَّعَةً، أَوْ قَالَ: مُنَجَّمَةً - فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ: وَاللهِ، إِنْ كُنْتُ لَأَبِيعُهَا بِخَمْسِمِائَةِ دِينَارٍ نَقْدًا، وَلَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ مَا بِعْتُكَ» وَاللَّفْظُ لِلْحَمِيدِيِّعمرو بن شرید رحمہ اللہ کہتے ہیں: مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا: چلو ہم سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس چلیں، تو میں ان کے ساتھ نکلا جبکہ ان کا ہاتھ میرے کندھے پر تھا، تو ابورافع رضی اللہ عنہ آئے اور مسور سے کہا: کیا تم اسے - یعنی سعد کو - حکم نہیں دیتے کہ وہ مجھ سے میرے وہ دو گھر خرید لے جو اس کے گھر میں (ملحق) ہیں؟ سعد نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں تمہیں چار سو دینار سے زیادہ نہیں دوں گا - یا تو کہا: قسطوں میں، یا کہا: مقررہ وقتوں میں - ابورافع رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! میں اسے پانچ سو دینار نقد میں بیچ سکتا تھا، اور اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے نہ سنا ہوتا: ”پڑوسی اپنی ملحقہ زمین کا زیادہ حق دار ہے“ تو میں تمہیں یہ نہ بیچتا۔ (یہ الفاظ حمیدی کے ہیں)