المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبيد الله بن أبي رافع، عن أبيه باب: عبیداللہ بن ابی رافع کی اپنے والد سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُرَاتٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، ثنا عَوْنُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَائِمٌ أَوْ يُوحَى إِلَيْهِ، وَإِذَا حَيَّةٌ فِي جَانِبِ الْبَيْتِ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَقْتُلَهَا فَأُوقِظَهُ، فَاضْطَجَعْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْحَيَّةِ، فَإِنْ كَانَ شَيْءٌ كَانَ بِي دُونَهُ، فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَتْلُو هَذِهِ الْآيَةَ: {إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا} [المائدة: ٥٥] الْآيَةَ، قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ» فَرَآنِي إِلَى جَانِبِهِ، فَقَالَ: «مَا أَضْجَعَكَ هَهُنَا؟» قُلْتُ: لِمَكَانِ هَذِهِ الْحَيَّةِ، قَالَ: «قُمْ إِلَيْهَا فَاقْتُلْهَا» فَقَتَلْتُهَا، فَحَمِدَ اللهَ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي، فَقَالَ: «يَا أَبَا رَافِعٍ سَيَكُونُ بَعْدِي قَوْمٌ يُقَاتِلُونَ عَلِيًّا، حَقًّا عَلَى اللهِ جِهَادُهُمْ فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ جِهَادَهُمْ بِيَدِهِ فَبِلِسَانِهِ، فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ بِلِسَانِهِ فَبِقَلْبِهِ، لَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ شَيْءٌ»سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: … میں نے ان کے اور سانپ کے درمیان لیٹ گیا، تاکہ اگر کچھ ہو تو مجھ پر ہو ان سے پہلے۔ پھر وہ بیدار ہوئے تو یہ آیت پڑھ رہے تھے: ”تمہارا دوست تو بس اللہ ہے اور اس کا رسول اور وہ لوگ جو ایمان لائے“ [سورۃ المائدہ: 55]، پھر فرمایا: ”الحمدللہ۔“ پھر مجھے اپنے پہلو میں دیکھا تو پوچھا: ”تم یہاں کیوں لیٹے ہو؟“ میں نے عرض کیا: اس سانپ کی وجہ سے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اٹھو اور اسے مار ڈالو۔“ میں نے اسے مار ڈالا، تو آپ ﷺ نے اللہ کی حمد کی، پھر میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: ”اے ابورافع! میرے بعد ایک قوم ہو گی جو علی سے لڑے گی، اللہ پر ان سے جہاد کرنا حق ہے، جو ہاتھ سے جہاد نہ کر سکے وہ زبان سے کرے، اور جو زبان سے نہ کر سکے وہ دل سے کرے، اس سے آگے کچھ نہیں۔“