حدیث نمبر: 934
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَالِكٍ الْفَزَارِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَسَدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُشْرِقَ اللَّوْنِ، فَعُرِفَ السُّرُورُ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: " رَأَيْتُ رَبِّي فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ، فَقَالَ لِي: يَا مُحَمَّدُ، أَتَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى؟ فَقُلْتُ: يَا رَبِّ، فِي الْكَفَّارَاتِ، قَالَ: وَمَا الْكَفَّارَاتُ؟ قُلْتُ: إِبْلَاغُ الْوُضُوءِ أَمَاكِنَهُ عَلَى الْكَرَاهِيَّاتِ، وَالْمَشْيُ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الصَّلَوَاتِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ "
ترجمہ

سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس چمکتے چہرے کے ساتھ تشریف لائے، خوشی آپ ﷺ کے چہرے سے عیاں تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب کو بہترین صورت میں دیکھا، اس نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! کیا تمہیں معلوم ہے کہ عالمِ بالا کس بات میں جھگڑا کرتے ہیں؟ میں نے عرض کیا: اے میرے رب! کفارات کے بارے میں۔ اس نے پوچھا: کفارات کیا ہیں؟ میں نے عرض کیا: ناپسندیدگی کے باوجود وضو کے اعضاء تک پانی پہنچانا، نمازوں کی طرف پیدل چل کر جانا، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الألف / حدیث: 934
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 317، حدیث 938