المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سالم بن عبد الله بن عمر، عن أبي رافع باب: سالم بن عبداللہ بن عمر کی سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَا: ثنا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْتُلُ الْكِلَابَ، فَخَرَجْتُ أَقْتُلُ كُلَّمَا لَقِيتُ حَتَّى جِئْتُ الْعَصِيَّةَ، فَإِذَا كَلْبٌ حَوْلَ بَيْتٍ فَأَرَغْتُهُ لِأَقْتُلَهُ، فَنَادَتْنِي امْرَأَةٌ مِنَ الْبَيْتِ، فَقَالَتْ: مَا تُرِيدُ؟ قُلْتُ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْتُلُ الْكِلَابَ، فَقَالَتْ: ارْجِعْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ أَنِّي امْرَأَةٌ قَدْ ذَهَبَ بَصَرِي، وَإِنَّهُ يُؤْذِنُنِي بِالْآتِي، وَيَطْرُدُ عَنِّي السَّبُعَ، فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: «ارْجِعْ فَاقْتُلْهُ» فَرَجَعْتُ فَقَتَلْتُهُسیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے مجھے کتے مارنے کے لیے بھیجا، تو میں نکلا اور جہاں بھی کتا ملتا اسے مارتا رہا یہاں تک کہ میں العصیہ پہنچا، تو ایک گھر کے پاس ایک کتا تھا، میں نے اسے مارنے کے لیے تاک لیا، تو گھر سے ایک عورت نے مجھے آواز دی اور کہا: تم کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے کتے مارنے کے لیے بھیجا ہے۔ اس نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس جاؤ اور انہیں بتاؤ کہ میں ایک ایسی عورت ہوں جس کی بینائی جا چکی ہے، اور یہ کتا مجھے آنے والے کی اطلاع دیتا ہے اور مجھ سے درندوں کو دور بھگاتا ہے۔ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس آیا اور آپ کو بتایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”واپس جاؤ اور اسے مار ڈالو۔“ چنانچہ میں واپس گیا اور اسے مار ڈالا۔