المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
وما روى ابن عباس رضي الله عنه، عن أبي رافع باب: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ، يَقُولُ: حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كُنْتُ غُلَامًا لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَكُنْتُ قَدْ أَسْلَمْتُ، وَأَسْلَمَتْ أُمُّ الْفَضْلِ، وَأَسْلَمَ الْعَبَّاسُ، وَكَانَ يَكْتُمُ إِسْلَامَهُ مَخَافَةَ قَوْمِهِ، وَكَانَ أَبُو لَهَبٍ قَدْ تَخَلَّفَ عَنْ بَدْرٍ وَبَعَثَ مَكَانَهُ الْعَاصَ بْنَ هِشَامٍ، وَكَانَ لَهُ عَلَيْهِ دَيْنٌ، فَقَالَ لَهُ: اكْفِنِي هَذَا الْغَزْوَ، وَأَتْرُكُ لَكَ مَا عَلَيْكَ، فَفَعَلَ، فَلَمَّا جَاءَ الْخَبَرُ، وَكَبَتَ اللهُ أَبَا لَهَبٍ، وَكُنْتُ رَجُلًا ضَعِيفًا أَنْحِتُ هَذِهِ الْأَقْدَاحَ فِي حُجْرَةٍ، وَمَرَّ بِي، فَوَاللهِ إِنِّي لَجَالِسٌ فِي الْحُجْرَةِ أَنْحِتُ أَقْدَاحِي وَعِنْدِي أُمُّ الْفَضْلِ، إِذِ الْفَاسِقُ أَبُو لَهَبٍ يَجُرُّ رِجْلَيْهِ - أُرَاهُ قَالَ: حَتَّى جَلَسَ عِنْدَ طُنُبِ الْحُجْرَةِ - فَكَانَ ظَهْرُهُ إِلَى ظَهْرِي، فَقَالَ النَّاسُ: هَذَا أَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ، فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ: هَلُمَّ إِلَيَّ يَا ابْنَ أَخِي، فَجَاءَ أَبُو سُفْيَانَ حَتَّى جَلَسَ عِنْدَهُ، فَجَاءَ النَّاسُ فَقَامُوا عَلَيْهِمَا، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي كَيْفَ كَانَ أَمْرُ النَّاسِ؟ قَالَ: لَا شَيْءَ، وَاللهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ لَقِينَاهُمْ فَمَنَحْنَاهُمْ أَكْتَافَنَا يَقْتِلُونَنَا كَيْفَ شَاءُوا، وَيَأْسِرُونَنَا كَيْفَ شَاءُوا وَايْمُ اللهِ، لَمَا لُمْتُ النَّاسَ، قَالَ: وَلِمَ؟ فَقَالَ: رَأَيْتُ رِجَالًا بِيضًا عَلَى خَيْلٍ بُلْقٍ لَا وَاللهِ مَا تَلِيقُ شَيْئًا وَلَا يَقُومُ لَهَا شَيْءٌ، قَالَ: فَرَفَعْتُ طُنُبَ الْحُجْرَةِ، فَقُلْتُ: تِلْكَ وَاللهِ الْمَلَائِكَةُ، فَرَفَعَ أَبُو لَهَبٍ يَدَهُ فَلَطَمَ وَجْهِي، وَثَاوَرْتُهُ فَاحْتَمَلَنِي، فَضَرَبَ بِيَ الْأَرْضَ حَتَّى نَزَلَ عَلَيَّ، فَقَامَتْ أُمُّ الْفَضْلِ فَاحْتَجَزَتْ، فَأَخَذْتُ عَمُودًا مِنْ عُمُدِ الْحُجْرَةِ فَضَرَبْتُهُ بِهِ، فَفَلَقْتُ فِي رَأْسِهُ شَجَّةً مُنْكَرَةً، وَقَالَتْ: أَيْ عَدُوَّ اللهِ، أسْتَضْعَفْتَهُ إِنْ رَأَيْتَ سَيِّدَهُ غَائِبًا عَنْهُ؟ فَقَامَ ذَلِيلًا، فَوَاللهِ مَا عَاشَ إِلَّا سَبْعَ لَيَالٍ حَتَّى ضَرَبَهُ اللهُ بِالْعَدَسَةِ فَقَتَلَتْهُ، فَلَقَدْ تَرَكَهُ ابْنَاهُ لَيْلَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً مَا يَدْفِنَاهُ حَتَّى أَنْتَنَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ لِابْنَيْهِ: أَلَا تَسْتَحِيَانِ، إِنَّ أَبَاكُمَا قَدْ أَنْتَنَ فِي بَيْتِهِ؟ فَقَالَا: إِنَّا نَخْشَى هَذِهِ الْقُرْحَةَ، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ يَتَّقُونَ الْعَدَسَةَ كَمَا يُتَّقى الطَّاعُونُ، فَقَالَ رَجُلٌ: انْطَلِقَا فَأَنَا مَعَكُمَا، قَالَ: فَوَاللهِ مَا غَسَّلُوهُ إِلَّا قَذْفًا بِالْمَاءِ عَلَيْهِ مِنْ بَعِيدٍ، ثُمَّ احْتَمَلُوهُ فَقَذَفُوهُ فِي أَعْلَى مَكَّةَ إِلَى جِدَارٍ، وَقَذَفُوا عَلَيْهِ الْحِجَارَةَ "سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ، جو رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے، بیان کرتے ہیں: میں عباس بن عبدالمطلب کا غلام تھا، میں اسلام لا چکا تھا، اور ام الفضل بھی اسلام لا چکی تھیں، اور عباس بھی اسلام لا چکے تھے، مگر وہ اپنی قوم کے خوف سے اپنا اسلام چھپاتے تھے۔ ابولہب بدر میں شریک نہ ہوا اور اپنی جگہ عاص بن ہشام کو بھیجا، جس پر اس کا قرض تھا، اس نے اس سے کہا: تم میری طرف سے اس جنگ میں چلے جاؤ، اور جو قرض تم پر ہے وہ میں معاف کر دوں گا۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ جب شکست کی خبر آئی اور اللہ نے ابولہب کو ذلیل کیا - میں ایک کمزور آدمی تھا، ایک کمرے میں یہ پیالے تراش رہا تھا، وہ میرے پاس سے گزرا - اللہ کی قسم! میں کمرے میں بیٹھا اپنے پیالے تراش رہا تھا اور میرے پاس ام الفضل بھی تھیں، اتنے میں وہ فاسق ابولہب اپنے پاؤں گھسیٹتا ہوا آیا - میرا خیال ہے راوی نے کہا: یہاں تک کہ کمرے کی رسی کے پاس بیٹھ گیا - اس کی پیٹھ میری پیٹھ کی طرف تھی، تو لوگوں نے کہا: یہ ابوسفیان بن حارث ہیں۔ ابولہب نے کہا: ادھر آؤ اے بھتیجے! ابوسفیان آئے اور اس کے پاس بیٹھ گئے، لوگ بھی آ کر ان کے پاس کھڑے ہو گئے، تو اس نے کہا: بھتیجے! لوگوں کا کیا حال رہا؟ انہوں نے کہا: کچھ نہیں، اللہ کی قسم! بس یہی ہوا کہ ہم ان سے ملے تو ہم نے انہیں اپنی پیٹھیں دکھا دیں، وہ جیسے چاہیں ہمیں قتل کرتے رہے اور جیسے چاہیں قید کرتے رہے، اللہ کی قسم! میں لوگوں پر ملامت نہیں کرتا۔ ابولہب نے پوچھا: کیوں؟ انہوں نے کہا: میں نے کچھ گورے رنگ کے آدمی ابلق گھوڑوں پر دیکھے، اللہ کی قسم! کوئی چیز ان کے سامنے نہ ٹھہرتی تھی اور نہ ہی کوئی چیز ان کا مقابلہ کر سکتی تھی۔ راوی کہتے ہیں: میں نے کمرے کی رسی اٹھا کر کہا: اللہ کی قسم! یہ تو فرشتے تھے! اس پر ابولہب نے ہاتھ اٹھا کر میرے منہ پر تھپڑ مارا، میں نے اس سے الجھنے کی کوشش کی تو اس نے مجھے اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا اور مجھ پر چڑھ بیٹھا، تو ام الفضل کھڑی ہوئیں اور مجھے چھڑایا، پھر میں نے کمرے کے ستونوں میں سے ایک ستون پکڑ کر اسے مارا، جس سے اس کے سر پر ایک بھیانک زخم آیا، اور ام الفضل نے کہا: اے اللہ کے دشمن! تو نے اسے اس لیے کمزور سمجھا کہ اس کا آقا موجود نہیں؟ تو وہ ذلیل ہو کر اٹھا۔ اللہ کی قسم! وہ صرف سات راتیں ہی زندہ رہا کہ اللہ نے اسے 'عدسہ' نامی ایک وبائی مرض میں مبتلا کر دیا جس نے اسے مار ڈالا۔ اس کے دونوں بیٹوں نے دو یا تین راتیں اسے دفن نہ کیا یہاں تک کہ وہ بدبودار ہو گیا۔ قریش کے ایک شخص نے اس کے بیٹوں سے کہا: کیا تمہیں شرم نہیں آتی، تمہارا باپ گھر میں بدبودار پڑا ہے؟ انہوں نے کہا: ہمیں اس زخم کی وبا کا خوف ہے۔ قریش عدسے سے اسی طرح ڈرتے تھے جیسے طاعون سے ڈرا جاتا ہے۔ ایک شخص نے کہا: چلو، میں تمہارے ساتھ ہوں۔ راوی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! انہوں نے اسے صرف دور سے پانی پھینک کر غسل دیا، پھر اسے اٹھا کر مکہ کے بالائی حصے میں ایک دیوار کے پاس لے گئے اور اس پر پتھر پھینک دیے۔