المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الأرقم بن أبي الأرقم المخزومي بدري باب: سیدنا ارقم بن ابی الارقم مخزومی رضی اللہ عنہ، بدری صحابی
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، ثنا عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَرْقَمِ، عَنْ جَدِّهِ الْأَرْقَمِ، وَكَانَ بَدْرِيًّا، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آوَى فِي دَارِهِ عِنْدَ الصَّفَا حَتَّى تَكَامَلُوا أَرْبَعِينَ رَجُلًا مُسْلِمِينَ، وَكَانَ آخِرُهُمِ إِسْلَامًا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا كَانُوا أَرْبَعِينَ خَرَجُوا إِلَى الْمُشْرِكِينَ، قَالَ: جِئْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُوَدِّعَهُ وَأَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ تُرِيدُ؟» قُلْتُ: أُرِيدُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ، قَالَ: «وَمَا يُخْرِجُكُ إِلَيْهِ، أَفِي تِجَارَةٍ؟» قُلْتُ: لَا، وَلَكِنِّي أُصَلِّي فِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةٌ هَهُنَا خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ صَلَاةٍ ثَمَّ»سیدنا ارقم رضی اللہ عنہ کے پوتے عثمان بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ارقم رضی اللہ عنہ بدری صحابی تھے، اور رسول اللہ ﷺ نے صفا کے پاس ان کے گھر میں پناہ لی تھی یہاں تک کہ مسلمان مرد پورے چالیس ہو گئے، اور ان میں سب سے آخر میں اسلام لانے والے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے، جب وہ چالیس ہو گئے تو مشرکین کے سامنے نکل آئے۔ سیدنا ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس رخصت لینے آیا، اور میرا ارادہ بیت المقدس جانے کا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”کہاں کا ارادہ ہے؟“ میں نے عرض کیا: بیت المقدس کا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہیں وہاں کیا لے جا رہا ہے، کیا تجارت کے لیے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں، بلکہ میں وہاں نماز پڑھنا چاہتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہاں کی ایک نماز وہاں کی ہزار نمازوں سے بہتر ہے۔“