المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما أسند عمر بن أبي سلمة باب: سیدنا عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کی مرویات
حدیث نمبر: 8263
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شُعَيْبٍ السِّمْسَارُ، ثنا خَالِدُ بْنُ خِدَاشٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبٍ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُقَبِّلُ الصَّائِمُ؟ فَقَالَ: «سَلْ هَذِهِ» لِأُمِّ سَلَمَةَ وَهِي جَالِسَةٌ فَقَالَتْ: إِنَّهُ لَيَفْعَلُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنْتَ قَدْ غَفَرَ اللهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، قَالَ: «أَمَا وَاللهِ إِنِّي لَأَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَتْقَاكُمْ»ترجمہ
سیدنا عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: کیا روزہ دار بوسہ لے سکتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان سے پوچھو“، اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا وہاں بیٹھی تھیں، تو انہوں نے فرمایا: وہ (آپ ﷺ) ایسا کرتے ہیں۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول، اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”سن لو، اللہ کی قسم! میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور تم سب سے زیادہ متقی ہوں۔“