المعجم الكبير للطبراني
باب الطاء— حرف طا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
خلدة بنت طلق، عن أبيها باب: خلدہ بنت طلق کی اپنے والد سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْكُوفِيُّ، ثنا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ، عَنْ سِرَاجِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَمَّتِهِ خَلْدَةَ بِنْتِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهَا طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: جَلَسْنَا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ مُخْتَارُ بْنُ عَبْدِ الْقَيْسِ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، مَا تَرَى فِي شَرَابٍ نَصْنَعُهُ مِنْ ثِمَارِنَا؟ فَأَعْرَضَ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَأَلَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بِنَا، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ: «مَنِ السَّائِلُ عَنِ الْمُسْكِرِ؟ تَسْأَلُنِي لَا تَشْرَبْهُ، وَلَا تَسْقِهِ أَخَاكَ الْمُسْلِمَ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، مَا شَرِبَهُ رَجُلٌ قَطُّ ابْتِغَاءَ أَنْ يُسْكِرَ، فَيَسْقِيهِ اللهُ الْخَمْرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ عبدالقیس کا مختار آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے نبی، اس مشروب کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جو ہم اپنے پھلوں سے بناتے ہیں؟ نبی کریم ﷺ نے تین بار پوچھے جانے تک اس سے اعراض کیا (خاموش رہے)، پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور ہمیں نماز پڑھائی۔ جب نماز مکمل ہوئی تو فرمایا: ”نشہ آور مشروب کے بارے میں پوچھنے والا کہاں ہے؟ تم مجھ سے پوچھتے ہو، (تو سن لو) اسے مت پیو اور نہ اپنے مسلمان بھائی کو پلاؤ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے، جس شخص نے بھی نشہ حاصل کرنے کی نیت سے اسے کبھی پیا، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن شراب پلائے گا۔“