المعجم الكبير للطبراني
باب الطاء— حرف طا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
طارق بن سويد الحضرمي باب: سیدنا طارق بن سوید حضرمی رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 8181
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ طَارِقِ بْنِ سُوَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ بِأَرْضِنَا أَعْنَابًا نَعْتَصِرُهَا، فَنَشْرَبُ مِنْهَا؟ قَالَ: «لَا» . فَرَاجَعْتُهُ، فَقَالَ: «لَا» . فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا نَسْتَشْفِي بِهَا، قَالَ: «ذَاكَ لَيْسَ بِشِفَاءٍ، وَلَكِنَّهُ دَاءٌ»ترجمہ
سیدنا طارق بن سوید حضرمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول، ہماری سرزمین میں انگور ہیں جنہیں ہم نچوڑتے ہیں، کیا ہم اسے پی سکتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے دوبارہ پوچھا، آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول، ہم تو اس سے شفا حاصل کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ شفا نہیں ہے، بلکہ یہ خود بیماری ہے۔“