المعجم الكبير للطبراني
باب الطاء— حرف طا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
طارق بن شهاب الأحمسي باب: سیدنا طارق بن شہاب احمسی رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَهْلَ الْبَصْرَةِ، غَزَوْا نَهَاوَنْدَ، فَأَمَدَّهُمْ أَهْلُ الْكُوفَةِ عَلَيْهِمْ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَظَهَرُوا فَأَرَادَ أَهْلُ الْبَصْرَةِ أَنْ لَا يَقْسِمُوا لِأَهْلِ الْكُوفَةِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ - أَوْ بَنِي عُطَارِدٍ -: أَيُّهَا الْعَبْدُ الْأَجْدَعُ تُرِيدُ أَنْ تُشَارِكَنَا فِي غَنَائِمِنَا، وَكَانَتْ أُذُنُهُ جُدِعَتْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: خَيْرَ أُذُنَيَّ سَبَبْتَ، فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكَتَبَ: «إِنَّ الْغَنِيمَةَ لِمَنْ شَهِدَ الْوَقْعَةَ»طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہلِ بصرہ نے نہاوند پر لشکر کشی کی، تو اہلِ کوفہ نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں ان کی مدد کی، تو وہ غالب آ گئے، اس پر اہلِ بصرہ نے چاہا کہ اہلِ کوفہ کو (غنیمت میں سے) حصہ نہ دیں، تو بنی تمیم — یا بنی عطارد — کے ایک آدمی نے کہا: اے کان کٹے غلام، کیا تم چاہتے ہو کہ ہماری غنیمتوں میں ہمارے شریک بنو؟ اور ان کا کان رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (جہاد میں) کاٹا گیا تھا، تو انہوں نے کہا: تم نے میرے بہتر کان کو گالی دی، چنانچہ انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا، اور انہوں نے جواب میں لکھا: ”غنیمت اسی کا حق ہے جو معرکے میں حاضر ہوا۔“