المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن عبد الله الأودي، عن أبي أمامة باب: سعید بن عبداللہ اودی کی ابواُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ أَنَسُ بْنُ سَلْمٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ الْحِمْصِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْأَوْدِيِّ، قَالَ: شَهِدْتُ أَبَا أُمَامَةَ وَهُوَ فِي النَّزْعِ، فَقَالَ: إِذَا أَنَا مُتُّ، فَاصْنَعُوا بِي كَمَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نصْنَعَ بِمَوْتَانَا، أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِذَا مَاتَ أَحَدٌ مِنْ إِخْوَانِكُمْ، فَسَوَّيْتُمِ التُّرَابَ عَلَى قَبْرِهِ، فَلْيَقُمْ أَحَدُكُمْ عَلَى رَأْسِ قَبْرِهِ، ثُمَّ لِيَقُلْ: يَا فُلَانَ بْنَ فُلَانَةَ، فَإِنَّهُ يَسْمَعُهُ وَلَا يُجِيبُ، ثُمَّ يَقُولُ: يَا فُلَانَ بْنَ فُلَانَةَ، فَإِنَّهُ يَسْتَوِي قَاعِدًا، ثُمَّ يَقُولُ: يَا فُلَانَ بْنَ فُلَانَةَ، فَإِنَّهُ يَقُولُ: أَرْشِدْنَا رَحِمَكَ اللهُ، وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ. فَلْيَقُلْ: اذْكُرْ مَا خَرَجْتَ عَلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا شَهَادَةَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّكَ رَضِيتَ بِاللهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، وَبِالْقُرْآنِ إِمَامًا، فَإِنَّ مُنْكَرًا وَنَكِيرًا يَأْخُذُ وَاحِدٌ مِنْهُمْا بِيَدِ صَاحِبِهِ وَيَقُولُ: انْطَلِقْ بِنَا مَا نَقْعُدُ عِنْدَ مَنْ قَدْ لُقِّنَ حُجَّتَهُ، فَيَكُونُ اللهُ حَجِيجَهُ دُونَهُمَا ". فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَإِنْ لَمْ يَعْرِفْ أُمَّهُ؟ قَالَ: «فَيَنْسُبُهُ إِلَى حَوَّاءَ، يَا فُلَانَ بْنَ حَوَّاءَ»سعید بن عبداللہ اودی کہتے ہیں: میں سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی نزع کی حالت میں حاضر تھا، تو انہوں نے فرمایا: جب میں مر جاؤں تو میرے ساتھ ویسا ہی کرنا جیسا رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اپنے مُردوں کے ساتھ کرنے کا حکم دیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیتے ہوئے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کا کوئی بھائی مر جائے اور تم اس کی قبر پر مٹی برابر کر دو، تو تم میں سے کوئی اس کی قبر کے سرہانے کھڑا ہو کر کہے: اے فلاں بن فلانہ! تو وہ سنتا ہے مگر جواب نہیں دیتا، پھر وہ کہے: اے فلاں بن فلانہ! تو وہ سیدھا بیٹھ جاتا ہے، پھر وہ کہے: اے فلاں بن فلانہ! تو وہ کہتا ہے: ہمیں راہنمائی دو، اللہ تم پر رحم کرے، لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں ہوتا۔ تو وہ کہے: اس بات کو یاد کرو جس پر تم دنیا سے نکلے، یعنی اس بات کی گواہی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں، اور یہ کہ تم اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے، محمد ﷺ کے نبی ہونے اور قرآن کے امام ہونے پر راضی ہو، پس منکر اور نکیر (فرشتے) ان میں سے ایک اپنے ساتھی کا ہاتھ پکڑ کر کہے گا: چلو، ہم اس شخص کے پاس نہیں بیٹھیں گے جسے اپنی دلیل سکھا دی گئی ہے، تو اللہ ہی ان دونوں کی بجائے اس کی طرف سے حجت والا ہوگا۔“ ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اگر اسے اپنی ماں کا علم نہ ہو (تو اسے کس کی طرف منسوب کیا جائے)؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے حوا علیہا السلام کی طرف منسوب کیا جائے گا: اے فلاں ابن حوا۔“