المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
جعفر بن الزبير، عن القاسم باب: جعفر بن زبیر کی قاسم سے روایات
حدیث نمبر: 7909
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ صَالِحٍ الشِّيرَازِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَلَقَ اللهُ الْخَلْقَ، وَقَضَى الْقَضِيَّةَ، وَأَخَذَ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ وَعَرْشُهُ عَلَى الْمَاءِ، فَأَهَلُ الْجَنَّةِ أَهْلُهَا وَأَهْلُ النَّارِ أَهْلُهَا» . قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللهِ، فِيمَ الْأَعْمَالُ؟ قَالَ: «يَعْمَلُ كُلُّ قَوْمٍ لِمَنْزِلَتِهِمْ» ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: إِذًا نَجْتَهِدُ يَا رَسُولَ اللهِترجمہ
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا اور فیصلہ کر دیا، اور نبیوں سے عہد لیا، جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا، پس اہلِ جنت وہی ہیں جو اس کے اہل ہیں اور اہلِ جہنم وہی ہیں جو اس کے اہل ہیں۔“ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی، پھر اعمال کس لیے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر قوم اپنے مقام کے مطابق عمل کرتی ہے۔“ اس پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: تو پھر ہم محنت کریں گے، اے اللہ کے رسول!