المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الوليد بن جميل الدمشقي، عن القاسم باب: ولید بن جمیل دمشقی کی قاسم سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمُعَلَّى الدِّمَشْقِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ جَمِيلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، فَإِذَا أَنَا بِخَشَفَةٍ بَيْنَ يَدَيَّ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ فَقَالَ: هَذَا بِلَالٌ الْمُؤَذِّنُ فَنَظَرْتُ، فَإِذَا أَكْثَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ الضُّعَفَاءُ وَالْمَسَاكِينُ، وَإِذَا أَقَلُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْأَغْنِيَاءُ وَالنِّسَاءُ، قُلْتُ لَهُ: مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ؟ فَقَالَ: إِنَّ الْأَغْنِيَاءَ يُحْبَسُونَ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ يُحَاسَبُونَ وَيُمَحَّصُونَ، وَأَمَّا النِّسَاءُ، فَأَلْهَاهُنَّ الْأَحْمَرَانِ الذَّهَبُ وَالْحَرِيرُ، ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ، فَإِذَا بِالْمِيزَانِ، فَأَخَذَ كِفَّةً فَوُضِعَ فِيهَا جَمِيعُ أُمَّتِي، وَجُعِلْتُ فِي الْكِفَّةِ الْأُخْرَى، فَرَجَحَتْ بِهِمْ، ثُمَّ عُرِضَتْ عَلَيَّ أُمَّتِي رَجُلًا رَجُلًا، فَاسْتَبْطَأْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، فَلَمَّا جَاءَ، قُلْتُ: مَا حَبَسَكَ؟ فَبَكَى إِلَيَّ، وَبَكَيْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كُنْتُ هُنَاكَ وَرَاءَ الْبَابِ أُحَاسَبُ وَأُمَحَّصُ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنِّي لَنْ أَرَاكَ، وَلَنْ تَرَانِي "سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں جنت میں داخل ہوا، تو اپنے سامنے ایک ہلکی سی آہٹ سنی، میں نے کہا: یہ کیا ہے، اے جبریل؟ انہوں نے کہا: یہ مؤذن بلال ہیں۔ پھر میں نے دیکھا کہ جنت میں اکثر لوگ کمزور اور مسکین ہیں، اور جنت میں سب سے کم امیر اور عورتیں ہیں۔ میں نے پوچھا: اے جبریل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: امیر لوگوں کو جنت کے دروازے پر روک لیا جاتا ہے، ان کا حساب لیا جاتا ہے اور انہیں جانچا جاتا ہے۔ رہیں عورتیں، تو انہیں دو سرخ چیزوں — سونے اور ریشم — نے مشغول کر رکھا تھا۔ پھر میں جنت کے آٹھ دروازوں کی طرف نکلا، تو ایک میزان نظر آیا، اس کا ایک پلڑا پکڑا گیا اور اس میں میری ساری امت رکھی گئی، اور مجھے دوسرے پلڑے میں رکھا گیا تو میں ان پر بھاری ہو گیا۔ پھر میری امت مجھ پر ایک ایک کر کے پیش کی گئی، تو مجھے سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے آنے میں دیر لگی، جب وہ آئے تو میں نے پوچھا: تمہیں کس چیز نے روکے رکھا؟ تو وہ میرے سامنے رو پڑے، اور میں بھی ان کے سامنے رو پڑا۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میں وہاں دروازے کے پیچھے تھا، میرا حساب لیا جا رہا تھا اور مجھے جانچا جا رہا تھا، یہاں تک کہ مجھے لگا کہ اب میں نہ آپ کو دیکھ پاؤں گا اور نہ آپ مجھے دیکھ پائیں گے۔“