المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
الوليد بن سليمان بن أبي السائب، عن القاسم باب: ولید بن سلیمان بن ابی سائب کی قاسم سے روایات
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْعَلَاءِ، ح وَحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْعَلَاءِ الْحِمْصِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي السَّائِبِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ لَحِقَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ الْأَنْصَارِيُّ فِي حُلَّةٍ إِزَارٍ وَرِدَاءٍ، قَدْ أَسْبَلَ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُ بِنَاحِيَةِ ثَوْبِهِ، وَيَتَوَاضَعُ لِلَّهِ وَيَقُولُ: «اللهُمَّ عَبْدُكَ، وَابْنُ عَبْدِكَ، وَابْنُ أَمَتِكَ» حَتَّى سَمِعَهَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، فَالْتَفَتَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي أَحْمَسُ السَّاقَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَمْرَو بْنَ زُرَارَةَ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَحْسَنَ كُلَّ خَلْقِهِ يَا عَمْرَو بْنَ زُرَارَةَ إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُسْبِلِينَ» ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَفِّهِ تَحْتَ رُكْبَةِ نَفْسِهِ، فَقَالَ: «يَا عَمْرَو بْنَ زُرَارَةَ، هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ» ، ثُمَّ رَفَعَهَا، ثُمَّ وَضَعَهَا تَحْتَ ذَلِكَ فَقَالَ: «يَا عَمْرَو بْنَ زُرَارَةَ هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ» ، ثُمَّ رَفَعَهَا، ثُمَّ وَضَعَهَا تَحْتَ ذَلِكَ فَقَالَ: «يَا عَمْرَو بْنَ زُرَارَةَ هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ»سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”…اتنے میں سیدنا عمرو بن زرارہ انصاری رضی اللہ عنہ تہبند اور چادر کا جوڑا پہنے ہوئے ہم سے آ ملے، جو انہوں نے ٹخنوں سے نیچے لٹکا رکھا تھا، تو نبی کریم ﷺ اپنے کپڑے کا کنارہ پکڑنے لگے اور اللہ کے سامنے عاجزی اختیار کرتے ہوئے فرمانے لگے: ”اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا ہوں، اور تیری باندی کا بیٹا ہوں۔“ یہاں تک کہ سیدنا عمرو بن زرارہ نے یہ بات سن لی، تو وہ نبی کریم ﷺ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: یا رسول اللہ! میری پنڈلیاں پتلی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے عمرو بن زرارہ! اللہ عزوجل نے اپنی ہر مخلوق کو اچھا بنایا ہے۔ اے عمرو بن زرارہ! بیشک اللہ تہبند لٹکانے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنی ہتھیلی اپنے گھٹنے کے نیچے رکھی اور فرمایا: ”اے عمرو بن زرارہ! تہبند کی جگہ یہ ہے۔“ پھر اسے اٹھایا، پھر اس سے نیچے رکھا اور فرمایا: ”اے عمرو بن زرارہ! تہبند کی جگہ یہ ہے۔“ پھر اسے اٹھایا، پھر اس سے نیچے رکھا اور فرمایا: ”اے عمرو بن زرارہ! تہبند کی جگہ یہ ہے۔“