المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يحيى بن أيوب المصري، عن عبيد الله بن زحر، عن علي بن يزيد، عن القاسم، عن أبي أمامة الباهلي باب: یحییٰ بن ایوب مصری کی عبیداللہ بن زحر، علی بن یزید اور قاسم کے واسطے سے ابواُمامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ضُحًى، فَكَبَّرَ ثَلَاثَ تَكْبِيرَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ، اسْقِنَا ثَلَاثًا، اللهُمَّ ارْزُقْنَا سَمْنًا وَلَبَنًا وَشَحْمًا وَلَحْمًا» . وَمَا يُرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابٌ فَثَارَتْ رِيحٌ وَغَبَرَةٌ، ثُمَّ اجْتَمَعَ سَحَابٌ، فَصَبَّتِ السَّمَاءُ، وَصَاحَ أَهْلُ الْأَسْوَاقِ وَتَفَارَّوْا إِلَى سَقَائِفِ الْمَسْجِدِ، وَإِلَى بُيُوتِهِمْ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ، فَسَالَتِ الطُّرُقُ، وَرَأَيْنَا ذَلِكَ الْمَطَرَ عَلَى أَطْرَافِ شَعْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى كَتِفَيْهِ وَمَنْكِبَيْهِ كَأَنَّهُ الْجُمَانُ، فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْصَرَفْتُ أَمْشِي عَلَى مِشْيَتِهِ وَهُوَ يَقُولُ: هَذَا أُحَدِّثُكُمْ بِرَبِّهِ قَالَ أَبُو أُمَامَةَ: مَا رَأَيْتُ عَامًا أَكْثَرَ سَمْنًا وَلَبَنًا وَشَحْمًا وَلَحْمًا إِنَّ هَؤُلَاءِ فِي الطُّرُقِ مَا يَكَادُ يَشْتَرِيَهِ أَحَدٌ
ثُمَّ انْصَرَفَ نَحْوَ الرِّجَالِ فَنَهَاهُمْ وَوَعَظَهُمْ، ثُمَّ انْصَرَفَ نَحْوَ النِّسَاءِ، فَوَعَظَهُنَّ وَشَدَّدَ عَلَيْهِنَّ فِي الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ، فَأَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، بَلَغَنَا أَنَّكَ شَدَّدْتَ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَأُحِبُّ الْجَمَالَ حَتَّى مِنْ حِبِّي الْجَمَالَ لَوْ جَعَلْتُ خِرَازَ سَوْطِي هَذَا مِنْ جِلْدِ نَمِرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، وَإِنَّمَا الْكِبْرُ مَنْ جَهِلِ الْحَقَّ، وَغَمَصَ النَّاسَ بِعَيْنِهِ»سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ چاشت کے وقت مسجد میں کھڑے ہوئے، تین بار تکبیر کہی، پھر فرمایا: ”اے اللہ! ہمیں سیراب فرما، اے اللہ! ہمیں گھی، دودھ، چربی اور گوشت (کی فراوانی) عطا فرما۔“ اس وقت آسمان میں کوئی بادل نظر نہیں آ رہا تھا، تو ہوا اور گرد اٹھی، پھر بادل جمع ہو گئے، پھر آسمان سے بارش برس پڑی، بازار والے چلانے لگے اور مسجد کے سائبانوں اور اپنے گھروں کی طرف بھاگ گئے، جبکہ رسول اللہ ﷺ کھڑے رہے، راستے پانی سے بہہ نکلے، اور ہم نے وہ بارش رسول اللہ ﷺ کے بالوں کے کناروں پر، اور آپ ﷺ کے کندھوں اور مونڈھوں پر موتیوں کی طرح دیکھی۔ پھر رسول اللہ ﷺ واپس چلے، تو میں بھی آپ ﷺ کے چلنے کے انداز میں چلتے ہوئے واپس آیا، اور آپ ﷺ فرما رہے تھے: یہ میں تمہیں اپنے رب کے بارے میں بتا رہا ہوں۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کوئی ایسا سال نہیں دیکھا جس میں گھی، دودھ، چربی اور گوشت اتنا زیادہ ہوا ہو کہ وہ راستوں میں پڑا رہتا اور کوئی خریدنے والا مشکل سے ملتا۔
پھر آپ ﷺ مردوں کی طرف متوجہ ہوئے، انہیں نصیحت اور موعظت فرمائی، پھر عورتوں کی طرف متوجہ ہوئے، انہیں نصیحت فرمائی اور ریشم و سونا پہننے کے بارے میں سختی سے تنبیہ فرمائی۔ تو بنو عامر کے ایک شخص نے آ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں پتہ چلا ہے کہ آپ نے ریشم اور سونا پہننے کے بارے میں سختی فرمائی ہے، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا! مجھے خوبصورتی اتنی پسند ہے کہ میرا دل چاہتا ہے کہ میں اپنے اس کوڑے کی سلائی چیتے کی کھال سے کرواؤں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے، تکبر تو یہ ہے کہ حق کو نہ مانا جائے اور لوگوں کو حقیر سمجھا جائے۔“