المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عبيد بن زحر، عن علي بن يزيد مطرح بن يزيد أبو المهلب، عن عبيد الله بن زحر باب: عبید بن زحر کی علی بن یزید سے روایات؛ مطرح بن یزید ابومہلب کی عبیداللہ بن زحر سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ مِهْرَانَ الدَّبَّاغُ، ثنا الْمُشْمَعَلُّ بْنُ مِلْحَانَ، عَنْ مُطَّرِحِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَعَثَنِي اللهُ هُدًى وَرَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ، وَأَمَرَنِي رَبِّي أَنْ أَدُقَّ الْمَزَامِيرَ، وَالْمَعَازِفَ، وَالْأَوْثَانَ الَّتِي كَانَتْ تُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللهِ، وَأَقْسَمَ رَبِّي بِعِزَّتِهِ لَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ عَبْدٌ مِنْ عَبِيدِي إِلَّا سَقَيْتُهُ إِيَّاهُ مِنَ الْحَمِيمِ، فَإِمَّا أَغْفِرُ لَهُ، وَإِمَّا أُعَذِّبُهُ، وَأَقْسَمَ رَبِّي بِعِزَّتِهِ لَا يَسْقِي عَبْدٌ مِنْ عَبِيدِي صَبِيًّا لَا يَعْقِلُهُ إِلَّا سَقَيْتُهُ مِثْلَ مَا سَقَاهُ مِنَ الْحَمِيمِ، إِمَّا أَنْ أَغْفِرَ لَهُ، وَإِمَّا أَنْ أُعَذِّبَهُ، وَأَقْسَمَ رَبِّي بِعِزَّتِهِ لَا يَتْرُكُهُ عَبْدٌ مِنْ عَبِيدِي مَخَافَتِي إِلَّا سَقَيْتُهُ إِيَّاهُ فِي حَضِيرَةِ الْقُدُسِ»سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے مجھے تمام جہانوں کے لیے ہدایت اور رحمت بنا کر بھیجا ہے، اور میرے رب نے مجھے باجے، ساز اور اللہ کے سوا پوجے جانے والے بتوں کو توڑنے کا حکم دیا ہے، اور میرے رب نے اپنی عزت کی قسم کھائی ہے کہ میرے بندوں میں سے جو بھی شراب پیے گا، میں اسے کھولتا ہوا پانی پلاؤں گا، پھر خواہ میں اسے بخش دوں یا عذاب دوں، اور میرے رب نے اپنی عزت کی قسم کھائی ہے کہ میرے بندوں میں سے جو بھی کسی ناسمجھ بچے کو شراب پلائے، میں اسے بھی اتنا ہی کھولتا ہوا پانی پلاؤں گا، خواہ میں اسے بخش دوں یا عذاب دوں، اور میرے رب نے اپنی عزت کی قسم کھائی ہے کہ میرے بندوں میں سے جو بھی میرے خوف سے اسے چھوڑ دے، میں اسے قیامت کے دن حظیرۃ القدس (پاکیزہ باغ) میں پلاؤں گا۔“