❮
❯
حدیث نمبر: 7680
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ خَرَجَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، فَمَرَّ بِأَهْلِ أَبْيَاتٍ مِنَ الْعَرَبِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ: هَلْ مِنْ مَاءٍ لِوُضُوءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ؟ فَقَالُوا: مَا عِنْدَنَا مَاءٌ إِلَّا فِي إِهَابِ مَيْتَةٍ، دَبَغْنَاهُ بِلَبَنٍ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ: «إِنَّ دِبَاغَهُ طَهُورُهُ» فَأُتِيَ مِنْهُ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ صَلَّى
ترجمہ

سلیم بن عامر رحمہ اللہ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے کسی غزوے میں نکلے، تو عرب کے کچھ خیموں والوں کے پاس سے گزرے، تو آپ ﷺ نے ان کی طرف پیغام بھیجا: کیا رسول اللہ ﷺ کے وضو کے لیے کچھ پانی ہے؟ انہوں نے کہا: ہمارے پاس مردار کی کھال کے سوا کوئی پانی نہیں، جسے ہم نے دودھ سے دباغت دی ہے۔ تو آپ ﷺ نے ان کی طرف پیغام بھیجا: ”اس کی دباغت ہی اسے پاک کر دیتی ہے۔“ تو وہ آپ ﷺ کے پاس لایا گیا، آپ ﷺ نے اس سے وضو کیا، پھر نماز پڑھی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7680
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 169، حدیث 7711