المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
صفوان بن عمرو، عن سليم بن عامر باب: صفوان بن عمرو کی سلیم بن عامر سے روایات
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا أَبُو زَيْدِ بْنِ أَبِي الْغِمْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ فِي النَّاسِ، فَقَالَ: «إِنَّ اللهَ كَتَبَ عَلَيْكُمِ الْحَجَّ» . فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ، فَقَالَ: أَفِي كُلِّ عَامٍ؟ فَغَلِقَ كَلَامُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ وَغَضِبَ، وَمَكَثَ طَوِيلًا، ثُمَّ تَكَلَّمَ، فَقَالَ: «مَنْ هَذَا السَّائِلُ؟» فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: " وَيْحَكَ، مَاذَا يُؤْمِنُكَ أَنْ أَقُولَ نَعَمْ، وَاللهِ لَوْ قُلْتُ: نَعَمْ، لَوَجَبَتْ، وَلَوْ وَجَبَتْ لَتَرَكْتُمْ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ لَكَفَرْتُمْ. أَلَا إِنَّهُ إِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَئِمَّةُ الْحَرَجِ، وَاللهِ، لَوْ أَنِّي أَحْلَلْتُ لَكُمْ جَمِيعَ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ، وَحَرَّمْتُ عَلَيْكُمْ مِثْلَ خُفِّ بَعِيرٍ لَوَقَعْتُمْ فِيهِ "، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى: {لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ} [المائدة: ١٠١] الْآيَةَسیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”بیشک اللہ نے تم پر حج فرض کر دیا ہے۔“ تو دیہاتیوں میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور بولا: کیا ہر سال؟ اس پر رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک رک گئی اور آپ ﷺ کو غصہ آ گیا، اور آپ ﷺ کافی دیر خاموش رہے، پھر گویا ہوئے اور فرمایا: ”یہ سوال کرنے والا کون ہے؟“ اس دیہاتی نے کہا: میں ہوں، یا رسول اللہ۔ فرمایا: ”تیرا ناس ہو! تجھے کس چیز نے مطمئن کیا کہ میں 'ہاں' نہ کہہ دوں؟ اللہ کی قسم، اگر میں 'ہاں' کہہ دیتا تو وہ واجب ہو جاتا، اور اگر واجب ہو جاتا تو تم اسے چھوڑ دیتے، اور اگر تم اسے چھوڑ دیتے تو کافر ہو جاتے۔ سن لو! تم سے پہلے لوگوں کو صرف زیادہ سوال کرنے والے پیشواؤں نے ہلاک کیا۔ اللہ کی قسم، اگر میں تمہارے لیے زمین کی ہر چیز حلال کر دیتا اور تم پر صرف اونٹ کے کھر جتنی چیز حرام کرتا، تب بھی تم اس میں پڑ جاتے۔“ تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا: ”ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو (جو بتائی جائیں تو تمہیں ناگوار گزریں)“ [سورۃ المائدہ: 101]۔