حدیث نمبر: 7638
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ يَحْيَى الرَّقِّيُّ، ثنا أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ سِنَانَ الرَّهَاوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى الْكَلَاعِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: " إِنَّ آخِرَ رَجُلٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ يَتَقَلَّبُ عَلَى الصِّرَاطِ ظَهْرًا لِبَطْنٍ، كَالْغُلَامِ يَضْرِبُهُ أَبُوهُ وَهُوَ يَفِرُّ مِنْهُ يَعْجِزُ عَنْهُ عَمَلُهُ أَنْ يَسْعَى فَيَقُولُ: يَا رَبِّ بَلِّغْ بِيَ الْجَنَّةَ، وَنَجِّنِي مِنَ النَّارِ، فَيُوحِي اللهُ تَعَالَى إِلَيْهِ: عَبْدِي إِنْ أَنَا نَجَّيْتُكَ مِنَ النَّارِ، وَأَدْخَلْتُكَ الْجَنَّةَ، أَتَعْتَرِفُ لِي بِذُنُوبِكَ وَخَطَايَاكَ؟ فَيَقُولُ الْعَبْدُ: نَعَمْ، يَا رَبِّ، وَعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ لَئِنْ تُنْجِينِي مِنَ النَّارِ لَأَعْتَرِفَنَّ لَكَ بِذُنُوبِي وَخَطَايَايَ، فَيَجُوزُ الْجِسْرَ، وَيَقُولُ الْعَبْدُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ نَفْسِهِ: لَئِنِ اعْتَرَفَتُ لَهُ بِذُنُوبِي وَخَطَايَايَ لَيَرُدَّنِي إِلَى النَّارِ، فَيُوحِي اللهُ إِلَيْهِ: عَبْدِي، اعْتَرِفْ لِي بِذُنُوبِكَ وَخَطَايَاكَ، أَغْفِرُهَا لَكَ وَأُدْخِلُكَ الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ الْعَبْدُ: لَا، وَعِزَّتِكَ مَا أَذْنَبْتُ ذَنْبًا قَطُّ، وَلَا أَخْطَأْتُ خَطِيئَةً قَطُّ، فَيُوحِي اللهُ إِلَيْهِ: عَبْدِي إِنَّ لِي عَلَيْكَ بَيِّنَةً، فَيَلْتَفِتُ الْعَبْدُ يَمِينًا وَشِمَالًا فَلَا يَرَى أَحَدًا، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَرِنِي بَيِّنَتَكَ، فَيَسْتَنْطِقُ اللهُ جِلْدَهُ بِالْمُحَقَّرَاتِ، فَإِذَا رَأَى ذَلِكَ الْعَبْدُ، يَقُولُ: يَا رَبِّ، عِنْدِي وَعِزَّتِكَ الْعَظَائِمُ الْمُضْمَرَاتُ، فَيُوحِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ عَبْدِي: أَنَا أَعْرَفُ بِهَا مِنْكَ، اعْتَرِفْ لِي بِهَا، أَغْفِرُهَا لَكَ، وَأُدْخِلُكَ الْجَنَّةَ، فَيَعْتَرِفُ الْعَبْدُ بِذُنُوبِهِ، فَيَدْخُلُ الْجَنَّةُ، ثُمَّ ضَحِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ يَقُولُ: هَذَا أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً، فَكَيْفَ بِالَّذِي فَوْقَهُ؟ "
ترجمہ

سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک جنت میں داخل ہونے والا آخری آدمی پل صراط پر اوندھا اور سیدھا الٹتا پلٹتا آئے گا، جیسے کوئی بچہ جسے اس کا باپ مار رہا ہو اور وہ اس سے بھاگ رہا ہو، اس کا عمل اسے دوڑنے سے عاجز کر دے گا، تو وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے جنت تک پہنچا دے، اور مجھے جہنم سے نجات دے۔ اللہ تعالیٰ اس کی طرف وحی فرمائے گا: میرے بندے! اگر میں تجھے جہنم سے نجات دے دوں اور جنت میں داخل کر دوں، تو کیا تو اپنے گناہوں اور خطاؤں کا اقرار کرے گا؟ بندہ کہے گا: ہاں، اے میرے رب، تیری عزت اور جلال کی قسم! اگر تو مجھے جہنم سے نجات دے دے تو میں ضرور اپنے گناہوں اور خطاؤں کا اقرار کروں گا۔ تو وہ پل عبور کر لے گا، اور بندہ اپنے دل میں کہے گا: اگر میں نے اپنے گناہوں اور خطاؤں کا اقرار کر لیا تو وہ مجھے یقیناً جہنم میں واپس بھیج دے گا۔ تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف وحی فرمائے گا: میرے بندے! اپنے گناہوں اور خطاؤں کا اقرار کر، میں انہیں بخش دوں گا اور تجھے جنت میں داخل کروں گا۔ تو بندہ کہے گا: نہیں، تیری عزت کی قسم، میں نے کبھی کوئی گناہ نہیں کیا اور نہ کبھی کوئی خطا کی۔ اللہ تعالیٰ اس کی طرف وحی فرمائے گا: میرے بندے! بیشک میرے پاس تیرے خلاف گواہی موجود ہے۔ تو بندہ دائیں بائیں دیکھے گا، اسے کوئی نظر نہیں آئے گا، تو وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے اپنی گواہی دکھا۔ تو اللہ تعالیٰ اس کی جلد کو اس کی معمولی باتوں پر بلوا دے گا، جب بندہ یہ دیکھے گا تو کہے گا: اے میرے رب! تیری عزت کی قسم، میرے پاس تو اس سے کہیں بڑے گناہ چھپے ہوئے ہیں۔ اللہ عزوجل اس کی طرف وحی فرمائے گا: میرے بندے! میں انہیں تجھ سے زیادہ جانتا ہوں، ان کا اقرار کر، میں انہیں بخش دوں گا اور تجھے جنت میں داخل کروں گا۔ تو بندہ اپنے گناہوں کا اقرار کر لے گا، اور جنت میں داخل ہو جائے گا۔“ پھر رسول اللہ ﷺ اتنا ہنسے کہ آپ ﷺ کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں، اور فرمایا: ”یہ جنتیوں میں سب سے کم درجے والا ہے، تو جو اس سے اوپر ہے اس کا کیا حال ہو گا؟“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7638
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 158، حدیث 7669