حدیث نمبر: 7616
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِبْرِيقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: قَالَ خِدَاشٌ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّهُ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ حَجَّةَ الْوَدَاعِ، فَكَانَ أَوَّلَ مَا تَفَوَّهَ بِهِ أَنْ قَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُوصِيكُمْ بِأُمَّهَاتِكُمْ»
ثُمَّ حَمِدَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ قَالَ: مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ قَالَ: «أَلَا إِنَّ الْعَارِيَةَ مُؤَدَّاةٌ، وَإِنَّ الْمِنْحَةَ مُؤَدَّاةٌ»
«وَالْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ»
ترجمہ

سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حجۃ الوداع میں حاضری دی، اور آپ ﷺ نے سب سے پہلے یہ ارشاد فرمایا: ”بیشک اللہ عزوجل تمہیں تمہاری ماؤں کے بارے میں وصیت فرماتا ہے۔“
پھر آپ ﷺ نے اللہ عزوجل کی حمد بیان کی، پھر جو اللہ نے چاہا فرمایا، پھر فرمایا: ”سن لو! عاریت واپس کی جانے والی ہے، اور منیحہ واپس کی جانے والی ہے“
”اور بچہ بستر (نکاح) والے کا ہے، اور زانی کے لیے پتھر (نامرادی) ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7616
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 147، حدیث 7647