المعجم الكبير للطبراني
باب الصاد— حرف صاد سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
قحافة بن ربيعة، عن أبي أمامة باب: قحافہ بن ربیعہ کی ابواُمامہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، ح وحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ متويهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يَحيَى بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ، قَالَا: ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ نُمَيْرِ بْنِ يَزِيدَ الْقِينِيُّ، عَنْ قُحَافَةَ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ صُدَيِّ بْنِ عَجْلَانَ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى نَاقَةٍ حَتَّى وَقَفَ وَسَطَ النَّاسِ فِي يَوْمِ عَرَفَةَ، فَقَالَ: «أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟» قَالُوا: يَوْمُ عَرَفَةَ الْيَوْمُ الْحَرَامُ. قَالَ: «فَأَيُّ شَهْرٍ؟» قَالُوا: فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ. قَالَ: «فَأَيُّ بَلَدٍ؟» هذا؟ " قَالُوا: الْبَلَدُ الْحَرَامُ. قَالَ: «فَإِنَّ أَمْوَالَكُمْ، وَأَعْرَاضَكُمْ، وَدِمَاءَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كَيَوْمِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلَا إِنَّ كُلَّ نَبِيٍّ قَدْ مَضَتْ دَعْوَتُهُ إِلَّا دَعْوَتِي، فَإِنِّي قَدِ ادَّخَرْتُهَا عِنْدَ رَبِّي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، أَمَا بَعْدُ، فَإِنَّ الْأَنْبِيَاءَ مُكَاثِرُونَ، فَلَا تُخْزُونِي، فَإِنِّي جَالِسٌ لَكُمْ عَلَى الْحَوْضِ»سیدنا صدی بن عجلان ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر اونٹنی پر سوار آئے، یہاں تک کہ عرفہ کے دن لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”یہ کون سا دن ہے؟“ لوگوں نے کہا: عرفہ کا دن، حرمت والا دن۔ فرمایا: ”یہ کون سا مہینہ ہے؟“ کہا: حرمت والے مہینے میں۔ فرمایا: ”یہ کون سا شہر ہے؟“ کہا: حرمت والا شہر۔ فرمایا: ”پس بیشک تمہارے مال، تمہاری عزتیں اور تمہارے خون تم پر اسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارا یہ دن، تمہارے اس مہینے میں، تمہارے اس شہر میں حرام ہے۔ خبردار! ہر نبی اپنی (مقبول) دعا استعمال کر چکا، سوائے میری دعا کے، کیونکہ میں نے اسے قیامت کے دن تک اپنے رب کے پاس ذخیرہ کر رکھا ہے۔ اما بعد! انبیاء (اپنی امتوں کی) کثرت پر فخر کرنے والے ہیں، سو تم مجھے رسوا نہ کرنا، کیونکہ میں تمہارے لیے حوض پر بیٹھا ہوں گا۔“