حدیث نمبر: 7522
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَنْبَرٍ الْبَصْرِيُّ، ومُحَمَّدُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ شَاهِينَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو عَزَّةَ الدَّبَّاغُ، حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ قَالَ: كُنْتُ بِدِمَشْقَ، فَجَاءُوا بِرُءُوسٍ فَوَضَعُوهَا عَلَى دَرَجِ مَسْجِدِ دِمَشْقَ، فَرَأَيْتُ أَبَا أُمَامَةَ يَبْكِي فَقُلْتُ لَهُ: مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا أُمَامَةَ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَقُولُ: «إِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي أُنَاسٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يَتَجَاوَزُ تَرَاقِيَهُمْ يَنْتَثِرُونَهُ، كَمَا يَنْتَثِرُ الدَّقَلُ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ حَتَّى يَعُودَ السَّهْمُ عَلَى فَوْقِهِ شَرُّ قَتْلَى تَحْتَ السَّمَاءِ، طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ وَقَتَلُوهُ»
ترجمہ

شہر بن حوشب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: …وہ کچھ سر لے کر آئے اور انہیں دمشق کی مسجد کی سیڑھیوں پر رکھ دیا، تو میں نے سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کو روتے دیکھا، میں نے ان سے کہا: اے ابو امامہ! آپ کو کس چیز نے رلا دیا؟ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے: ”عنقریب میری امت میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ اسے اس طرح بکھیر دیں گے جیسے خراب کھجور بکھر جاتی ہے، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، پھر وہ اس میں دوبارہ نہیں لوٹیں گے جب تک تیر اپنے پر والے حصے پر واپس نہ لوٹ آئے، وہ آسمان تلے مارے جانے والوں میں سب سے برے ہوں گے، خوشخبری ہے اس کے لیے جو انہیں قتل کرے اور جسے وہ قتل کریں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7522
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 121، حدیث 7553