المعجم الكبير للطبراني
باب الألف— حرف الف سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ومما أسند أنس بن مالك رضي الله عنه باب: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی مرویات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ أَبِي الرُّطَيْلِ، ثنا حَبِيبُ بْنُ خَالِدٍ الْأَسَدِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: تُوُفِّيَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجْنَا مَعَهُ، فَرَأَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهْتَمًّا شَدِيدَ الْحُزْنِ، فَجَعَلْنَا لَا نُكَلِّمُهُ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ، فَإِذَا هُوَ لَمْ يَفْرُغْ مِنْ لَحْدِهِ، فَقَعَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَعَدْنَا حَوْلَهُ، فَحَدَّثَ نَفْسَهُ هُنَيْهَةً وَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ فَرَغَ مِنَ الْقَبْرِ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ، فَرَأَيْتُهُ يَزْدَادُ حُزْنًا، ثُمَّ إِنَّهُ فَرَغَ فَخَرَجَ، فَرَأَيْتُهُ سُرِّيَ عَنْهُ وَتَبَسَّمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، رَأَيْنَاكَ مُهْتَمًّا حَزِينًا لَمْ نَسْتَطِعْ أَنْ نُكَلِّمَكَ، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ سُرِّيَ عَنْكَ فَلِمَ ذَاكَ؟ قَالَ: «كُنْتُ أَذْكُرُ ضِيقَ الْقَبْرِ وَغَمِّهِ وَضَعْفَ زَيْنَبَ، فَكَانَ ذَلِكَ يَشُقُّ عَلَيَّ، فَدَعَوْتُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنُ يُخَفِّفَ عَنْهَا فَفَعَلَ، وَلَقَدْ ضَغَطَهَا ضَغْطَةً سَمِعَهَا مَنْ بَيْنَ الْخَافِقَيْنِ إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ»سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا، تو ہم آپ ﷺ کے ساتھ نکلے، ہم نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نہایت غمگین اور رنجیدہ ہیں، تو ہم آپ ﷺ سے بات نہ کر سکے یہاں تک کہ ہم قبر پر پہنچے، تو ابھی اس کا لحد مکمل نہیں ہوا تھا، رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے اور ہم آپ کے اردگرد بیٹھ گئے، آپ ﷺ کچھ دیر اپنے آپ سے باتیں کرتے رہے اور آسمان کی طرف دیکھتے رہے، پھر قبر مکمل ہوئی، تو رسول اللہ ﷺ اس میں اترے، میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کا غم بڑھتا جا رہا ہے، پھر جب آپ ﷺ فارغ ہو کر نکلے تو میں نے دیکھا کہ آپ ﷺ کی پریشانی دور ہو گئی اور آپ ﷺ مسکرا دیے، تو ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے آپ کو غمگین اور پریشان دیکھا، ہم آپ سے بات نہ کر سکے، پھر ہم نے دیکھا کہ آپ کی پریشانی دور ہو گئی، یہ کیوں تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے قبر کی تنگی اور اس کی گھٹن یاد آئی، اور زینب کی کمزوری یاد آئی، تو یہ بات مجھ پر گراں گزری، چنانچہ میں نے اللہ عزوجل سے دعا کی کہ وہ اس پر تخفیف فرما دے، تو اس نے ایسا ہی کیا۔ اور بےشک قبر نے اسے ایسا دبایا کہ اس کی آواز مشرق و مغرب کے درمیان ہر ایک نے سنی سوائے جنوں اور انسانوں کے۔“