حدیث نمبر: 7279
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي ح، وحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ النُّفَيْلِيُّ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لَهُ: يَا صُهَيْبُ، اكْتَنَيْتَ وَلَيْسَ لَكَ وَلَدٌ، وَانْتَمَيْتَ إِلَى الْعَرَبِ وَأَنْتَ رَجُلٌ مِنَ الرُّومِ، ‍‍‍‍‍‍‍فَقَالَ: «يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَمَّا قَوْلُكَ اكْتَنَيْتَ، وَلَيْسَ لَكَ وَلَدٌ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ كَنَّانِي بِأَبِي يَحْيَى، وَأَمَّا قَوْلُكَ انْتَمَيْتَ إِلَى الْعَرَبِ، وَأَنْتَ رَجُلٌ مِنَ الرُّومِ، فَإِنِّي رَجُلٌ مِنَ النَّمِرِ بْنِ قَاسِطٍ سُبِيتُ مِنَ الْمَوْصِلِ بَعْدَ أَنْ كُنْتُ غُلَامًا قَدْ عَرَفْتُ أَهْلِي وَنَسَبِي»
ترجمہ

سیدنا حمزہ بن صہیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے صہیب! تم نے کنیت رکھی حالانکہ تمہارا کوئی بیٹا نہیں، اور تم عرب سے اپنی نسبت جوڑتے ہو حالانکہ تم روم کے آدمی ہو۔ تو انہوں نے کہا: ”اے امیر المومنین! رہی تمہاری یہ بات کہ میں نے کنیت رکھی حالانکہ میرا کوئی بیٹا نہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے ابویحییٰ کنیت دی تھی، اور رہی تمہاری یہ بات کہ میں عرب سے نسبت جوڑتا ہوں حالانکہ میں روم کا آدمی ہوں، تو میں نمر بن قاسط قبیلے کا فرد ہوں، مجھے موصل سے اس وقت قید کیا گیا جب میں اپنے گھر والوں اور اپنے نسب کو پہچان چکا تھا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الصاد / حدیث: 7279
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 8، صفحہ 38، حدیث 7310