المعجم الكبير للطبراني
باب الشين— حرف شین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
أبو سلمة بن عبد الرحمن عن الشريد باب: ابوسلمہ بن عبدالرحمن کی سیدنا شرید رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 7226
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أُمِّيَ أَوْصَتْ أَنْ تُعْتَقَ عَنْهَا رَقَبَةٌ، وَعِنْدِي خَادِمٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَ: «ادْعُ بِهَا» فَجَاءَ، فَقَالَ: «مَنْ رَبُّكِ؟» قَالَتِ: اللهُ , قَالَ: «مَنْ أَنَا؟» قَالَتْ: رَسُولُ اللهِ، قَالَ: «فَأَعْتِقْهَا، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ»ترجمہ
سیدنا شرید بن سوید ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری ماں نے وصیت کی تھی کہ اس کی طرف سے ایک غلام آزاد کیا جائے، اور میرے پاس ایک سیاہ فام خادمہ ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے بلاؤ۔“ تو وہ آئی، آپ ﷺ نے پوچھا: ”تمہارا رب کون ہے؟“ اس نے کہا: اللہ۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”میں کون ہوں؟“ اس نے کہا: اللہ کے رسول۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پس اسے آزاد کر دو، وہ مومنہ ہے۔“