المعجم الكبير للطبراني
باب الشين— حرف شین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
ما روى عمرو بن الشريد، عن أبيه باب: عمرو بن شرید کی اپنے والد سے مروی روایات
حدیث نمبر: 7214
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَا: ثنا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ، عَنْ خَلَفِ بْنِ مِهْرَانَ أَبُو الرَّبِيعِ، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ قَتَلَ عُصْفُورًا عَبَثًا، عَجَّ إِلَى اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَقُولُ: يَا رَبُّ، إِنَّ عَبْدَكَ هَذَا قَتَلَنِي عَبَثًا، وَلَمْ يَقْتُلْنِي بِمَنْفَعَةٍ "ترجمہ
عمرو بن شرید رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا شرید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی بلا وجہ کسی چڑیا کو قتل کرے، وہ قیامت کے دن اللہ کے حضور فریاد کرے گی، اور کہے گی: اے میرے رب! تیرے اس بندے نے مجھے بلا وجہ قتل کیا، اور کسی فائدے کے لیے قتل نہیں کیا۔“