حدیث نمبر: 7136
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو مَسْعُودٍ أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ، ثنا سَهْلُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ السِّنْدِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَامِعٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الشَّامِيِّ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا جَمَعَ اللهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخَرِينَ بِبَقِيعٍ وَاحِدٍ، يَنْفُذُهُمُ الْبَصَرُ، وَيُسْمِعُهُمُ الدَّاعِيَ، قَالَ: أَنَا خَيْرُ شَرِيكٍ، كُلُّ عَمَلٍ كَانَ عُمِلَ لِي فِي دَارِ الدُّنْيَا كَانَ لِي فِيهِ شَرِيكٌ، فَأَنَا أَدَعُهُ الْيَوْمَ، وَلَا أَقْبَلُ الْيَوْمَ إِلَّا خَالِصًا " , ثُمَّ قَرَأَ: {إِلَّا عِبَادَ اللهِ الْمُخْلَصِينَ} [الصافات: ٤٠] {فَمَنْ كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا} [الكهف: ١١٠]
ترجمہ

سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ اگلوں اور پچھلوں کو ایک ہی میدان میں جمع کرے گا، جہاں نظر سب پر پڑے گی اور پکارنے والے کی آواز سب سنیں گے، تو اللہ فرمائے گا: میں سب سے بہتر شریک ہوں، جو بھی عمل دنیا میں میرے لیے کیا گیا اور اس میں میرا کوئی شریک بھی تھا، تو میں آج اسے چھوڑ دیتا ہوں، اور آج میں صرف خالص عمل قبول کروں گا۔“ پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ”سوائے اللہ کے چنے ہوئے بندوں کے۔“ [سورۃ الصافات: 40] ”پس جو شخص اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے، اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔“ [سورۃ الکہف: 110]

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الشين / حدیث: 7136
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 290، حدیث 7167