المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
يونس بن عبيد عن الحسن، عن سمرة باب: یونس بن عبید کی حسن کے واسطے سے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 6892
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهُذَلِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الَّذِي يَفِرُّ مِنَ الْمَوْتِ كَمَثَلِ الثَّعْلَبِ، تَطْلُبُهُ الْأَرْضُ بِدَيْنٍ، فَجَعَلَ يَسْعَى , حَتَّى إِذَا أَعْيَى وَانْتَهَرَ دَخَلَ جُحْرَهُ، فَقَالَتْ لَهُ الْأَرْضُ: يَا ثَعْلَبُ , دَيْنِي؟ فَخَرَجَ، وَلَهُ حُصَاصٌ، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى تَقَطَّعَتْ عُنُقُهُ , فَمَاتَ "ترجمہ
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”موت سے بھاگنے والے کی مثال اس لومڑی جیسی ہے جس سے زمین اپنا قرض طلب کرے، تو وہ دوڑتی رہی، یہاں تک کہ جب تھک ہار کر بیٹھ گئی تو اپنے بل میں گھس گئی، تو زمین نے اس سے کہا: اے لومڑی! میرا قرض؟ تو وہ گھبرا کر (بل سے) نکلی، اور یونہی ہوتا رہا یہاں تک کہ اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مر گئی۔“