حدیث نمبر: 6701
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو مُوسَى، ثنا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُحَيْرِيزٍ، حَدَّثَهُ وَكَانَ يَتِيمًا فِي حِجْرِ أَبِي مَحْذُورَةَ فَجَهَّزَهُ إِلَى الشَّامِ قَالَ: فَقُلْتُ لِأَبِي مَحْذُورَةَ: إِنِّي خَارِجٌ إِلَى الشَّامِ، فَأَخْشَى أَنْ أُسْأَلَ عَنْ تَأْذِينِكَ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَا مَحْذُورَةَ أَخْبَرَهُ قَالَ: خَرَجْتُ فِي نَفَرٍ , وَكُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ، فَأَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْنَا صَوْتَ الْمُؤَذِّنِ وَنَحْنُ عِنْدَهُ، فَصَرَخْنَا نَحْكِيهِ لِيَسْمَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّوْتَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا، فَوَقَفْنَا بَيْنَ يَدَيْهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّكُمُ الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ قَدِ ارْتَفَعَ؟» فَأَشَارَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ إِلَيَّ , وَصَدَقُوا، فَأَرْسَلَهُمْ كُلَّهُمْ وَحَبَسَنِي، قَالَ: «فَقُمْ فَأَذِّنْ بِالصَّلَاةِ» فَقُمْتُ، وَلَا شَيْءَ أَكْرَهُ إِلَيَّ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَلَا مِمَّا يَأْمُرُنِي بِهِ، فَقُمْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَلْقَى عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّأْذِينَ هُوَ بِنَفْسِهِ، فَقَالَ: قُلِ: «اللهُ أَكْبَرُ , اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ , اللهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ , أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ» ، ثُمَّ قَالَ لِيَ: " ارْجِعْ فَمُدَّ مِنْ صَوْتِكَ، فَقُلْ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ , أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ " ثُمَّ دَعَانِي حِينَ قَضَيْتُ التَّأْذِينَ، فَأَعْطَانِي صُرَّةً فِيهَا شَيْءٌ مِنْ فِضَّةٍ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى نَاصِيَةِ أَبِي مَحْذُورَةَ، ثُمَّ أَمَرَّهَا عَلَى وَجْهِهِ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ، ثُمَّ عَلَى كَبِدِهِ، ثُمَّ بَلَغَتْ يَدُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُرَّةَ أَبِي مَحْذُورَةَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَارَكَ اللهُ فِيكَ، وَبَارَكَ عَلَيْكَ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مُرْنِي بِالتَّأْذِينِ بِمَكَّةَ، قَالَ: «قَدْ فَعَلْتُ» وَذَهَبَ كُلُّ شَيْءٍ كَانَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَلْبِي مِنْ كَرَاهِيَةٍ، وَعَادَ ذَلِكَ كُلُّهُ مَحَبَّةً لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدِمْتُ عَلَى عَتَّابِ بْنِ أُسَيْدٍ عَامَلِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذَّنْتُ مَعَهُ بِالصَّلَاةِ عَنْ أَمْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ

سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے (آواز بلند کرتے ہوئے اذان کی) نقل میں شور مچایا تاکہ رسول اللہ ﷺ ہماری آواز سن لیں، آپ ﷺ نے ہمیں بلا بھیجا، ہم آپ ﷺ کے سامنے کھڑے ہو گئے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے وہ کون ہے جس کی آواز میں نے بلند ہوتے سنی؟“ تو سب لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا، اور انہوں نے سچ کہا، چنانچہ آپ ﷺ نے ان سب کو چھوڑ دیا اور مجھے روک لیا، فرمایا: ”اٹھو اور نماز کے لیے اذان دو۔“ میں کھڑا ہوا، اور اس وقت رسول اللہ ﷺ سے، اور آپ ﷺ جو حکم مجھے دے رہے تھے اس سے، بڑھ کر مجھے کوئی چیز ناپسند نہ تھی، میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے کھڑا ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے خود اپنی زبان سے مجھے اذان کے کلمات سکھائے، فرمایا: کہو: ”اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر، اشہد ان لا الہ الا اللہ، اشہد ان لا الہ الا اللہ، اشہد ان محمداً رسول اللہ، اشہد ان محمداً رسول اللہ۔“ پھر مجھ سے فرمایا: ”واپس جاؤ اور اپنی آواز کو کھینچ کر کہو: اشہد ان لا الہ الا اللہ، اشہد ان لا الہ الا اللہ، اشہد ان محمداً رسول اللہ، اشہد ان محمداً رسول اللہ، حی علی الصلاۃ، حی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح، حی علی الفلاح، اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ۔“ پھر جب میں اذان سے فارغ ہوا تو آپ ﷺ نے مجھے بلایا اور ایک تھیلی عطا فرمائی جس میں کچھ چاندی تھی، پھر اپنا دست مبارک ابو محذورہ کی پیشانی کے بالوں پر رکھا، پھر اسے ان کے چہرے پر، سامنے سے، پھیرا، پھر ان کے سینے پر، پھر رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ ابو محذورہ کی تھیلی تک پہنچا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تجھے برکت دے، اور تجھ پر برکت نازل فرمائے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے مکہ میں اذان دینے کا حکم دیجیے، فرمایا: ”دے دیا۔“ اور رسول اللہ ﷺ کے متعلق میرے دل میں جو کچھ ناپسندیدگی تھی سب ختم ہو گئی، اور وہ سب رسول اللہ ﷺ کی محبت میں بدل گئی، پھر میں رسول اللہ ﷺ کے عامل عتاب بن اسید کے پاس آیا اور رسول اللہ ﷺ کے حکم سے ان کے ساتھ نماز کے لیے اذان دی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6701
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 172، حدیث 6731