حدیث نمبر: 6663
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مُوسَى الرَّامَهُرْمُزِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا عَطَاءٌ مَوْلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَخِي النَّمِرِ بْنِ قَاسِطٍ، قَالَ: كَانَ وَسَطُ رَأْسِ السَّائِبِ أَسْوَدَ، وَبَقِيَّةُ رَأْسَهِ وَلِحْيَتُهُ أَبْيَضَ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا سَيِّدِي، وَاللهِ، مَا رَأَيْتُ مِثْلَ رَأْسَكَ هَذَا قَطُّ، هَذَا أَبْيَضُ وَهَذَا أَسْوَدُ، قَالَ: أَوَلَا أُخْبِرُكَ يَا بُنَيَّ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: إِنِّي كُنْتُ مَعَ صِبْيَانٍ نَلْعَبُ، فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَرَضْتُ لَهُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «وَعَلَيْكَ، مَنْ أَنْتَ؟» فَقُلْتُ: أَنَا السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ أَخُو النَّمِرِ بْنِ قَاسِطٍ، فَمَسَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسِي، وَقَالَ: «بَارَكَ اللهُ فِيكَ» ، قَالَ: فَوَاللهِ لَا يَبْيَضُّ أَبَدًا، أَوْ قَالَ: لَا يَزَالُ هَكَذَا أَبَدًا
ترجمہ

(سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سے فرمایا:) کیا میں تمہیں نہ بتاؤں، بیٹے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں۔ انہوں نے فرمایا: میں کچھ بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے، میں آپ ﷺ کے سامنے آیا اور سلام کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم پر بھی سلامتی ہو، تم کون ہو؟“ میں نے کہا: میں سائب بن یزید ہوں، نمر بن قاسط کا بھائی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: ”اللہ تجھے برکت دے۔“ راوی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! اس نے کبھی سفیدی نہیں پکڑی، یا فرمایا: وہ ہمیشہ ایسے ہی رہا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6663
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 160، حدیث 6693