حدیث نمبر: 6351
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْقَطَّانُ الْهَمْدَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عِصَامٍ الْجُرْجَانِيُّ، قَالَا: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ سَالِمِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ زُهَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، أَخْبَرَنِي أَبِي عَبْدُ الْعَزِيزِ، أَنَّ أَبَاهُ عُتْبَةَ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ سَالِمًا وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ غُلَامٌ حَدَثٌ «فَشَمَّتَ عَلَيْهِ الرَّسُولُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَدَعَا لَهُ، وَتَطَهَّرَ مِنْ فَضْلِ وَضُوئِهِ» وَذَلِكَ الْيَوْمَ عَلَيْهِ ذُؤَابَةٌ، وَقَدْ بَلَغَ , أَوْ كَمَا قَارَبَ يَبْلُغُ
ترجمہ

عبدالعزیز اپنے والد عتبہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد سیدنا سالم رضی اللہ عنہ ایک کم سن لڑکے کی حیثیت میں رسول اللہ ﷺ کے پاس وفد بن کر آئے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے تشمیت کی اور ان کے حق میں دعا فرمائی، اور انہوں نے آپ ﷺ کے وضو کے بچے ہوئے پانی سے تبرک حاصل کیا۔ اس دن ان کے سر پر چوٹی تھی، اور وہ بلوغت کو پہنچ چکے تھے، یا اس کے قریب تھے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6351
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 61، حدیث 6381