❮
❯
حدیث نمبر: 6297
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ جَبِيرَةَ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ أَبِي جَبِيرَةَ الْأَنْصَارِيُّ، مِنْ بَنِي الْأَشْهَلِ، عَنْ أَبِيهِ جَبِيرَةَ بْنِ مَحْمُودٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ سَلَامَةَ بْنِ وَقْشٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُمَا دَخَلَا وَلِيمَةً وَسَلَمَةُ عَلَى وُضُوءٍ، فَأَكَلُوا، ثُمَّ خَرَجُوا، فَتَوَضَّأَ سَلَمَةُ، فَقَالَ لَهُ جَبِيرَةُ: أَلَمْ تَكُنْ عَلَى وُضُوءٍ؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَخَرَجْنَا مِنْ دَعْوَةٍ دَعَوْنَا لَهَا , وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى وُضُوءٍ، فَأَكَلَ , ثُمَّ تَوَضَّأَ، فَقُلْتُ لَهُ: أَلَمْ تَكُنْ عَلَى وُضُوءٍ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «بَلَى، وَلَكِنَّ الْأَمْرَ يَحْدُثُ، وَهَذَا مِمَّا قَدْ حَدَثَ»
ترجمہ

جبیرہ بن محمود رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اور رسول اللہ ﷺ کے صحابی سیدنا سلمہ بن سلامہ بن وقش رضی اللہ عنہ ایک ولیمے میں گئے، اور سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ باوضو تھے، سب نے کھانا کھایا، پھر باہر نکلے تو سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ نے وضو کیا۔ جبیرہ نے ان سے کہا: کیا آپ باوضو نہیں تھے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، ہم ایک دعوت سے نکلے جس میں ہمیں بلایا گیا تھا، اور رسول اللہ ﷺ وضو کی حالت میں تھے، آپ ﷺ نے کھانا کھایا، پھر دوبارہ وضو کیا، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ وضو کی حالت میں نہیں تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں نہیں، لیکن معاملہ نیا ہو جاتا ہے، اور یہ بھی ایک نیا معاملہ ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6297
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 41، حدیث 6326