حدیث نمبر: 6291
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْكَشَّيُّ، قَالَا: ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ دَاوُدَ بْنَ أَبِي هِنْدَ، يُحَدِّثُ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: أَتَيْتُ أَنَا وَأَخِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَمَّنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ كَانَتْ تَقْرِي الضَّيْفَ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ، هَلْ يَنْفَعُهَا مِنْ عَمَلِهَا ذَلِكَ شَيْءٌ؟ قَالَ: «لَا» , فَقُلْنَا: إِنَّهَا وَأَدَتْ أُخْتًا لَنَا لَمْ تَبْلُغِ الْحِنْثَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمَوْءُودَةُ وَالْوَائِدَةُ فِي النَّارِ، إِلَّا أَنْ تُدْرِكَ الْوَائِدَةُ الْإِسْلَامَ فَتُسْلِمَ»
ترجمہ

سیدنا سلمہ بن یزید جعفی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی بیان کرتے ہیں: ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہماری ماں زمانہ جاہلیت میں مہمان نوازی کرتی تھی اور صلہ رحمی کرتی تھی، کیا اس کے اس عمل کا اسے کوئی فائدہ پہنچے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ ہم نے عرض کیا: اس نے ہماری ایک بہن کو زندہ دفن کر دیا تھا جو ابھی بلوغت کو نہیں پہنچی تھی؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”زندہ دفن کی جانے والی اور زندہ دفن کرنے والی دونوں جہنم میں جائیں گی، سوائے اس کے کہ دفن کرنے والی اسلام پائے اور مسلمان ہو جائے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 6291
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 7، صفحہ 39، حدیث 6319